آن لائن تعلیمی پلیٹ فارم کا ہیکرز کے ساتھ ڈیٹا ڈیلیٹ کروانے کا معاہدہ

آن لائن لرننگ پلیٹ فارم کینوس چلانے والی کمپنی انسٹراکچر نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اپنے سسٹم پر ہونے والے سائبر حملے کے بعد ہیکرز کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے تاکہ چوری شدہ ڈیٹا کو ڈیلیٹ کروایا جا سکے۔ اس حملے کے باعث طلباء اور اساتذہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، بالخصوص ان طلباء کو جو امتحانات کے وسط میں تھے۔

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے اس واقعے میں ملوث غیر مجاز عناصر کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا ہے۔ تاہم انسٹراکچر نے اس معاہدے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ آیا ہیکرز کو کوئی ادائیگی کی گئی ہے یا نہیں۔ کمپنی نے تحقیقات کے دوران عارضی طور پر سسٹم کو آف لائن کر دیا تھا جس سے طلباء اور فیکلٹی اپنی تعلیمی سرگرمیوں تک رسائی سے محروم ہو گئے تھے۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سٹیو ڈیلی نے حملے پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ہم نے بروقت اور تسلی بخش مواصلات فراہم نہیں کیں جس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔

ہیکرز کے گروہ شائنی ہنٹرز نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس گروہ نے دھمکی دی تھی کہ اگر چھ مئی تک تاوان ادا نہ کیا گیا تو دنیا بھر کے نو ہزار تعلیمی اداروں کے تقریباً ستائیس کروڑ پچاس لاکھ افراد کا ڈیٹا لیک کر دیا جائے گا۔ بعد ازاں ہیکرز نے ڈیڈ لائن میں توسیع کر دی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ تعلیمی اداروں نے ان کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔

معاہدے کے تحت ہیکرز نے ڈیٹا واپس کر دیا ہے اور کمپنی کے مطابق انہیں ڈیجیٹل تصدیق بھی مل گئی ہے کہ ہیکرز نے ڈیٹا کی تمام باقی ماندہ کاپیاں تباہ کر دی ہیں۔ انسٹراکچر کا کہنا ہے کہ سائبر مجرموں کے ساتھ معاملات میں مکمل یقین دہانی ممکن نہیں ہوتی، لیکن صارفین کے تحفظ اور اطمینان کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا گیا۔

کمپنی کے چیف انفارمیشن سکیورٹی آفیسر سٹیو پراؤڈ کے مطابق چوری ہونے والے ڈیٹا میں طلباء کے شناختی نمبر، ای میل ایڈریس، نام اور پیغامات شامل تھے۔ تاہم کمپنی کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ پاس ورڈز، تاریخ پیدائش، سرکاری شناختی دستاویزات یا مالی معلومات متاثر ہوئی ہیں۔

اس وقت کمپنی ماہرین کی مدد سے فارنزک تجزیہ کر رہی ہے تاکہ اپنے سسٹمز کو مزید محفوظ بنایا جا سکے اور متاثرہ ڈیٹا کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔ کینوس پلیٹ فارم تعلیمی اداروں میں گریڈز، لیکچرز، اسائنمنٹس اور امتحانات کے انتظام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی بندش سے طلباء میں شدید تشویش پائی گئی۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

وزیراعظم کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں امن و امان کی صورتحال اور وزارت داخلہ کے…

51 سیکنڈز ago

روس رواں برس اپنا طاقتور ترین جوہری میزائل ‘سرمت’ تعینات کرے گا

ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اعلان کیا ہے کہ روس رواں برس کے…

42 منٹس ago

پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں موسم گرما کی ایک ماہ کی تعطیلات کے دوران سمر کیمپس کا فیصلہ

پنجاب کے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران اسکولوں میں ایک…

50 منٹس ago

بھارت: آر ایس ایس کا اقلیتوں پر تنقید کے تدارک کے لیے بیرونِ ملک لابنگ کا فیصلہ

بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی نظریاتی سرپرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ…

1 گھنٹہ ago

ایران میں امریکی جنگ پر اب تک 29 ارب ڈالر لاگت آ چکی ہے، پینٹاگون

واشنگٹن میں پینٹاگون کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے منگل کے روز انکشاف کیا ہے کہ…

2 گھنٹے ago

روس رواں سال دنیا کا طاقتور ترین ‘سرمت’ جوہری میزائل تعینات کرے گا، ولادیمیر پیوٹن

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اعلان کیا ہے کہ روس رواں برس کے اختتام تک…

2 گھنٹے ago