ارجنٹائن کے علاقے پیٹاگونیا کے گاؤں ایپیوین میں سات سال قبل پھیلنے والی ہنٹا وائرس کی وبا نے میلن ویلے کی زندگی بدل کر رکھ دی تھی۔ اس وبا کے دوران میلن نے اپنے والد اور دو بہنوں کو کھو دیا تھا۔ حال ہی میں ایم وی ہونڈیئس کروز شپ پر ہنٹا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد میلن کی تکلیف دہ یادیں دوبارہ تازہ ہو گئی ہیں۔
میلن ویلے نے بتایا کہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں اپنے والد اور دو بہنوں کو کھونا ناقابل برداشت تھا۔ انہوں نے تحریری بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ چند دنوں میں ایک ہنستا بستا خاندان کیسے اجڑ سکتا ہے۔ دسمبر 2018 سے مارچ 2019 کے درمیان ایپیوین میں ہنٹا وائرس کے 34 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 11 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
میلن کے والد ایلڈو ویلے ایک سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے بعد وائرس کا شکار ہوئے تھے۔ میلن کے مطابق تقریب میں جس شخص کو وائرس تھا وہ ان کے والد کے ساتھ میز پر بیٹھا تھا، جس کے بعد وہاں موجود کئی دیگر افراد بھی متاثر ہوئے اور انتقال کر گئے۔ بعد ازاں، والد کی آخری رسومات کے دوران میلن کی تینوں بہنیں بھی وائرس کا شکار ہو گئیں۔ ایک بہن علامات ظاہر ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی چل بسی، جبکہ دوسری کی تدفین بغیر کسی سوگوار تقریب کے کرنی پڑی۔
یہ وائرس بنیادی طور پر انڈین چوہوں کے فضلے، تھوک اور پیشاب سے پھیلتا ہے، تاہم ایپیوین میں انسان سے انسان میں منتقلی کا انکشاف بھی ہوا تھا۔ صوبہ چوبوٹ کے ماہر وبائیات جارج ڈیاز نے بتایا کہ 2018 میں اس بیماری کے بارے میں معلومات بہت کم تھیں۔ اس وقت حکام نے 45 روزہ قرنطینہ نافذ کیا تھا، جس سے تقریباً 100 افراد گزرے، اور یہ عمل بعد میں آنے والی کووڈ-19 کی وبا کے لیے ایک پیش خیمہ ثابت ہوا۔
اس وبا کے دوران متاثرہ خاندانوں کو سماجی بائیکاٹ اور امتیازی سلوک کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ متاثرہ افراد کو قریبی قصبوں کی دکانوں میں داخلے سے روکا گیا تھا۔ آئزبل ڈیاز کے والد وکٹر ڈیاز کو اس وبا کا مریض نمبر صفر قرار دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ان کے خاندان کو شدید سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ آئزبل کا کہنا ہے کہ کوئی بھی بیماری کا انتخاب نہیں کرتا اور نہ ہی کسی کو جان بوجھ کر متاثر کرنا چاہتا ہے۔
ایپیوین کے رہائشی اب اس وائرس سے بچاؤ کے لیے گھروں اور گوداموں کی صفائی بلیچ سے کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ وکٹر ڈیاز کا کہنا ہے کہ ہنٹا وائرس کے بعد سے ان کا علاقہ کووڈ-19 اور 2025 اور 2026 کے تباہ کن جنگلات کی آگ جیسے بحرانوں سے گزر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کے بعد ایک مصیبت کے باوجود وہ زندگی کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور آگے بڑھنا جانتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر کے اضلاع میں اربوں روپے کے ترقیاتی…
سام سنگ الیکٹرانکس اور یونین کے درمیان تنخواہوں کے معاملے پر مذاکرات بدھ کے روز…
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے…
روس نے اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے منگل…
نیویارک میں ایک امریکی ٹرانسپیرنسی گروپ نے ایک عارضی نمائش کا اہتمام کیا ہے جس…