سام سنگ الیکٹرانکس اور یونین کے درمیان تنخواہوں کے معاملے پر مذاکرات بدھ کے روز ناکام ہو گئے ہیں، جس کے بعد کمپنی میں ایک بڑی ہڑتال کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف چپ سازی کے شعبے اور کمپنی کی ساکھ کے لیے سنگین خطرہ ہے بلکہ اس سے جنوبی کوریا کی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
حکومت کی ثالثی میں پیر اور منگل کو طویل مذاکرات کیے گئے تھے، تاہم کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ اس صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جنوبی کوریا نے متعلقہ وزراء کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ وزیراعظم کم من سیوک نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ قومی معیشت پر پڑنے والے گہرے اثرات کے پیش نظر صورتحال کی کڑی نگرانی کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت یونین اور انتظامیہ کے درمیان بات چیت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے تاکہ کسی بھی صورت میں ہڑتال کی نوبت نہ آئے۔
دنیا کی سب سے بڑی میموری چپ ساز کمپنی کے حصص کی قیمت میں ابتدائی طور پر چھ فیصد تک گراوٹ دیکھی گئی، تاہم ہنگامی اجلاس کی خبر کے بعد یہ گراوٹ صفر اعشاریہ سات فیصد تک محدود رہی۔
یونین نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو اکیس مئی سے اٹھارہ دن کے لیے ہڑتال کی جائے گی۔ یونین کے مطابق پچاس ہزار سے زائد ملازمین کام بند کر سکتے ہیں، جس سے چپ کی ترسیل میں تاخیر ہو سکتی ہے اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ یونین کے نمائندے چوئی سیونگ ہو نے کہا کہ سیمسنگ نے بونس کی حد کو ختم کرنے سمیت کسی بھی مطالبے پر پیش رفت نہیں کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہڑتال کی تاریخ تک مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، تاہم اگر کمپنی کی جانب سے کوئی مناسب تجویز پیش کی گئی تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔
سیمسنگ نے مذاکرات کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مخلصانہ بات چیت کے ذریعے بدترین صورتحال سے بچنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔ ثالثی کرنے والے ادارے نیشنل لیبر ریلیشنز کمیشن کا کہنا ہے کہ فریقین کے موقف میں وسیع خلیج کے باعث مذاکرات کا عمل ختم کر دیا گیا ہے۔
ملازمین میں غم و غصہ کی بنیادی وجہ حریف کمپنی ایس کے ہائنکس کے مقابلے میں بونس کی ادائیگی میں نمایاں فرق ہے۔ ایس کے ہائنکس نے گزشتہ ستمبر میں اپنی یونین کے مطالبات مانتے ہوئے بونس کی حد ختم کر دی تھی، جس کے بعد سیمسنگ کے ملازمین میں مایوسی بڑھی اور یونین کی رکنیت نوے ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جو کمپنی کی کل افرادی قوت کا ستر فیصد سے زیادہ ہے۔
ملازمین کا مطالبہ ہے کہ بنیادی تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ کیا جائے، سالانہ آپریٹنگ منافع کا پندرہ فیصد بونس کے طور پر مختص کیا جائے اور بونس کے حساب کتاب کے طریقہ کار میں شفافیت لائی جائے۔ سیمسنگ کے ملازمین کا یہ غصہ کمپنی کے ریکارڈ منافع کے باوجود بڑھ رہا ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے چپ کی مانگ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے سیمسنگ ایک ٹریلین ڈالر سے زائد کی مارکیٹ ویلیو حاصل کرنے والی ایشیا کی دوسری کمپنی بن گئی ہے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، کیونکہ ان کی…
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر کے اضلاع میں اربوں روپے کے ترقیاتی…
ارجنٹائن کے علاقے پیٹاگونیا کے گاؤں ایپیوین میں سات سال قبل پھیلنے والی ہنٹا وائرس…
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے…
روس نے اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے منگل…