اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ارتھ آور 2026 کے موقع پر پاکستانی عوام، سرکاری اداروں اور قانونی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے متحد ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سال 2023 سے 2025 تک کا عرصہ عالمی سطح پر گرم ترین رہا ہے، جس کے پیش نظر موجودہ نسل پر لازم ہے کہ وہ کرہ ارض کے تحفظ کی ذمہ داری کا احساس کرے۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ پاکستان میں تمام ترقیاتی منصوبوں کے لیے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہائی کورٹ کا گرین بنچ نباتات اور حیوانات کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے، جبکہ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ٹربیونل اسلام آباد ماحولیاتی مقدمات کے فوری حل میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
عدالتی فیصلوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے شہلا ضیاء اور مونال ریسٹورنٹ کیسز کا حوالہ دیا اور کہا کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں غیر قانونی کان کنی، درختوں کی کٹائی اور تجاوزات کے خلاف سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ عدلیہ صنعتی و فضائی آلودگی کے خاتمے اور ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی متحرک ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پانی کے تحفظ، شجرکاری اور فضلے میں کمی لاتے ہوئے پائیدار طرز زندگی اپنائیں۔ اس عزم کے اظہار کے طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت میں 28 مارچ کو رات ساڑھے آٹھ بجے سے ساڑھے نو بجے تک لائٹس بند رکھی جائیں گی۔
انہوں نے اپنے پیغام کے آخر میں کہا کہ ماحولیات کا تحفظ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے اور ہر چھوٹا سا قدم ایک بڑی اور بامعنی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے جس کے نتیجے…
پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات اور قحط سالی سے نمٹنے کے لیے…
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں روس، ایران کو محدود مگر…
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک رابطہ…
پاکستان انتیس مارچ سے شروع ہونے والے دو روزہ دورے کے لیے سعودی عرب، ترکی…
اسلام آباد میں خطے کی کشیدہ صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے سفارتی سرگرمیاں…