اسلام آباد میں جاری سفارتی سرگرمیوں اور امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ ریڈ زون سمیت تمام حساس مقامات پر سیکیورٹی کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ پنجاب بھر سے پولیس کی اضافی نفری بھی اسلام آباد طلب کر لی گئی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق جڑواں شہروں کے تمام ٹرانسپورٹ ٹرمینلز کو جمعرات کی رات گیارہ بجے سے بند کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جو گاڑیاں پہلے سے راولپنڈی کی جانب سفر کر رہی ہیں، انہیں ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ٹرمینلز تک جانے کی اجازت دی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں متوقع ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران کے ساتھ تعمیری بات چیت جاری ہے اور توقع ہے کہ یہ سلسلہ اسی مقام پر برقرار رہے گا جہاں پہلے مذاکرات ہوئے تھے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ امریکہ نے جنگ بندی کے معاہدے میں توسیع کی کوئی درخواست نہیں کی ہے۔ کیرولین لیوٹ نے اس سفارتی عمل میں پاکستان کے مرکزی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ مذاکرات میں واحد ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…