Categories: Newsپاکستان

خیبر پختونخوا میں پولیو کے دو مزید کیسز کی تصدیق، رواں سال تعداد تین ہو گئی

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسداد پولیو نے جمعہ کے روز جنوبی خیبر پختونخوا میں وائلڈ پولیو وائرس کے دو نئے کیسز کی تصدیق کی ہے۔

نئے کیسز بنوں اور شمالی وزیرستان میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں رسائی میں حائل رکاوٹیں وائرس کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہو رہی ہیں، جو بچوں کی صحت کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

متاثرہ بچوں کا تعلق بنوں کی یونین کونسل جانی خیل اور شمالی وزیرستان کی یونین کونسل گڑیوم سے ہے۔ ان کیسز کی تصدیق اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی عالمی ادارہ صحت سے تسلیم شدہ ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے کی ہے۔

سال 2026 کے دوران پاکستان میں اب تک پولیو کے کل تین کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم کے آغاز سے قبل 1990 کی دہائی کے اوائل میں سالانہ تخمینہ 20 ہزار کیسز کے مقابلے میں اب تک پاکستان نے پولیو کیسز میں 99.8 فیصد کمی لائی ہے۔ سال 2024 میں یہ تعداد 74 تھی جو 2025 میں کم ہو کر 31 رہ گئی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی خیبر پختونخوا میں وائرس کی موجودگی اس بات کی متقاضی ہے کہ اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی اور ہدف پر مبنی کوششیں تیز کی جائیں۔ جب تک ملک کا ہر بچہ محفوظ نہیں ہوگا، تب تک کوئی بھی بچہ محفوظ نہیں سمجھا جا سکتا۔

انسداد پولیو پروگرام اس خطے میں بچوں تک پہنچنے اور انہیں حفاظتی قطرے پلانے کے لیے سائنسی بنیادوں پر حکمت عملی مرتب کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی خیبر پختونخوا میں صحت کی مربوط خدمات بشمول غذائیت، معمول کی حفاظتی ٹیکہ جات، زچہ و بچہ کی صحت، اور پانی و صفائی ستھرائی کے منصوبوں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

پولیو ایک انتہائی متعدی اور ناقابل علاج بیماری ہے جو عمر بھر کی معذوری اور بعض صورتوں میں موت کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ بیماری ویکسین کے ذریعے مکمل طور پر قابل روک تھام ہے، جو دنیا کے 195 ممالک سمیت تمام مسلم ممالک میں محفوظ طریقے سے استعمال کی جا رہی ہے۔

رواں سال پاکستان میں دو قومی انسداد پولیو مہمات کے دوران تقریباً 45 ملین بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے ہیں، جبکہ مئی میں ہونے والی اگلی مہم میں تقریباً 19 ملین بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

پولیو کا خاتمہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ محکمہ انسداد پولیو نے والدین اور سرپرستوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ہر مہم کے دوران ویکسین کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری اور موت سے محفوظ رکھا جا سکے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

1 مہینہ ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

1 مہینہ ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

1 مہینہ ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

1 مہینہ ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

1 مہینہ ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

1 مہینہ ago