نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے خیبر پختونخوا میں پولیو کے دو نئے کیسز کی تصدیق کر دی ہے جس کے بعد رواں برس 2026 میں پاکستان میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد تین ہو گئی ہے۔
یہ کیسز بنوں اور شمالی وزیرستان کے اضلاع سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولیو کا مرض تاحال لاعلاج ہے تاہم بروقت ویکسینیشن کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔
ای او سی نے ہر مہم کے دوران بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ اس ماہ منتخب اضلاع میں انسداد پولیو کی ایک خصوصی مہم چلائی جائے گی جس میں تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ بچوں کو ویکسین فراہم کی جائے گی۔ حکام نے ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے عوامی تعاون کی اپیل کی ہے۔
پاکستان میں 2026 کی دوسری ملک گیر انسداد پولیو مہم کا آغاز 13 اپریل کو ہوا تھا جس کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے ساڑھے چار کروڑ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے گئے۔
ایک ہفتے تک جاری رہنے والی یہ مہم 19 اپریل تک جاری رہی جس میں چار لاکھ فرنٹ لائن ورکرز نے گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین پلائی۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستان نے پولیو کیسز میں 99 اعشاریہ 8 فیصد کمی کی ہے، جہاں 1994 میں کیسز کی تعداد 20 ہزار تھی جو 2025 میں کم ہو کر 31 رہ گئی تھی۔
ان کامیابیوں کے باوجود چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ سال 2026 کے دوران ملک کے 87 میں سے 23 اضلاع میں پولیو وائرس کی موجودگی کا پتہ چلا ہے جبکہ ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی تصدیق کے 40 کیسز سامنے آئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ جب تک وائرس کہیں بھی موجود ہے، پاکستان اور دنیا بھر کے ہر بچے کو خطرہ لاحق ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ آپریشن بنیان المرصوص…
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور پاکستان میں تعینات ڈنمارک کی سفیر مایا ڈیروس…
پینٹاگون نے جرمنی سے اپنے پانچ ہزار فوجی دستے واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔…
ایران کے شمال مغربی صوبے زنجان میں ناکارہ بارودی مواد کو تلف کرنے کے دوران…
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق…
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی اسرائیلی حراست سے رہائی…