خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں فتح خیل پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے خودکش حملے کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔ کالعدم خارجی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی چوکی سے ٹکرا دی جس کے بعد ہونے والا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ چوکی مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور اس کا ملبہ دور تک پھیل گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کی آواز دور دراز علاقوں تک سنی گئی جس سے قریبی رہائشی مکانات کی چھتیں بھی گر گئیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملبے تلے دبے مزید اہلکاروں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم اندھیرے اور دہشت گردوں کی جانب سے مزید حملوں کے خدشے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ہسپتال ذرائع نے شہدا میں رحمت ایاز، ڈرائیور صہیب اور کانسٹیبل نیاز علی کی شناخت کی ہے جبکہ زخمیوں میں فیروز اور حیات اللہ شامل ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق چوکی کے ملبے سے دس اہلکاروں کی لاشیں نکال کر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال بنوں منتقل کی جا رہی ہیں تاہم حکام کی جانب سے ہلاکتوں کی حتمی تعداد کی تصدیق تاحال باقی ہے۔
واقعے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ تاحال جاری ہے۔
انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر زیر گردش ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بنوں کنٹونمنٹ پر خودکش حملہ ہوا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں کا ہدف صرف فتح خیل پولیس چوکی تھی۔ سیکیورٹی حکام کو خدشہ ہے کہ دہشت گرد امدادی ٹیموں کو نشانہ بنانے کے لیے مزید حملے کر سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی…
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے ملکی…
تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی بحری جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم…
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ معرکہ حق…
معرکہ حق کے دوران نو مئی کو پاکستان نے دنیا کے جدید ترین روسی ساختہ…
لاہور ہائی کورٹ میں عید الاضحیٰ کے موقع پر مویشی منڈیوں میں من مانی قیمتوں،…