سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مشترکہ جائیداد کا کوئی بھی حصہ دار جہیز کے طور پر اپنی قانونی وراثتی حصے سے زیادہ جائیداد منتقل کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ مشترکہ اثاثوں میں شوہر صرف اپنے قانونی ملکیتی حصے تک ہی حق مہر یا جہیز کے طور پر تحفہ دے سکتا ہے اور وہ دیگر وارثان کے حقوق کو متاثر کرتے ہوئے پوری جائیداد منتقل نہیں کر سکتا۔
جسٹس شکیل احمد کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پورے مکان یا جائیداد کو جہیز میں دینے کے دعوے دیگر شریک مالکان یا خاندان کے افراد کے قانونی استحقاق پر فوقیت نہیں رکھ سکتے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ جائیداد کی غیر قانونی منتقلی سے پیدا ہونے والے تنازعات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ شادی کی تقریبات کے دوران جہیز میں دی جانے والی جائیداد کی ملکیت کی درست تصدیق کی جائے۔
عدالت نے وفاقی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ نکاح نامے اور شادی کے رجسٹریشن دستاویزات میں جائیداد کی تفصیلات کے لیے ایک علیحدہ کالم شامل کیا جائے جس میں تحفہ دینے والے شخص کے ملکیتی حصے کی واضح نشاندہی کی جائے۔
یہ فیصلہ پشاور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف دائر کردہ سول اپیل پر سنایا گیا۔ سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے مذکورہ اپیل کو خارج کر دیا ہے۔
تھائی لینڈ کے سابق وزیراعظم اور ارب پتی کاروباری شخصیت ٹھاکسن شیناواترا کو پیر کے…
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مسلم لیگ ن کے رکن…
برطانیہ کے زیر انتظام دنیا کے دور افتادہ ترین علاقے ٹرسٹن ڈا کونا میں ہینٹا…
ایران کی نوبل انعام یافتہ سماجی کارکن نرگس محمدی کو طبی بنیادوں پر جیل سے…
افغانستان کے صوبے بدخشاں کے ضلع آرگو میں مقامی وسائل پر تنازع کے دوران طالبان…
غزہ میں اسرائیلی فضائی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں اتوار کے…