سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مشترکہ جائیداد کا کوئی بھی حصہ دار جہیز کے طور پر اپنی قانونی وراثتی حصے سے زیادہ جائیداد منتقل کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ مشترکہ اثاثوں میں شوہر صرف اپنے قانونی ملکیتی حصے تک ہی حق مہر یا جہیز کے طور پر تحفہ دے سکتا ہے اور وہ دیگر وارثان کے حقوق کو متاثر کرتے ہوئے پوری جائیداد منتقل نہیں کر سکتا۔
جسٹس شکیل احمد کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پورے مکان یا جائیداد کو جہیز میں دینے کے دعوے دیگر شریک مالکان یا خاندان کے افراد کے قانونی استحقاق پر فوقیت نہیں رکھ سکتے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ جائیداد کی غیر قانونی منتقلی سے پیدا ہونے والے تنازعات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ شادی کی تقریبات کے دوران جہیز میں دی جانے والی جائیداد کی ملکیت کی درست تصدیق کی جائے۔
عدالت نے وفاقی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ نکاح نامے اور شادی کے رجسٹریشن دستاویزات میں جائیداد کی تفصیلات کے لیے ایک علیحدہ کالم شامل کیا جائے جس میں تحفہ دینے والے شخص کے ملکیتی حصے کی واضح نشاندہی کی جائے۔
یہ فیصلہ پشاور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف دائر کردہ سول اپیل پر سنایا گیا۔ سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے مذکورہ اپیل کو خارج کر دیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…