افغانستان کے صوبے بدخشاں کے ضلع آرگو میں مقامی وسائل پر تنازع کے دوران طالبان فورسز کی جانب سے نہتے شہریوں پر فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ افغان میڈیا کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مقامی آبادی نے وسائل پر قبضے کے خلاف احتجاج کیا، جس کے جواب میں طالبان نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔
رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ احتجاج کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے اور مبینہ مظالم کی پردہ پوشی کے لیے طالبان انتظامیہ نے بدخشاں میں موبائل فون سروس معطل کر دی ہے۔
طالبان کی جانب سے شہریوں پر براہ راست فائرنگ کے اس واقعے نے افغانستان میں انسانی حقوق اور شہریوں کی حفاظت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت پہلے ہی عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ روابط کے باعث تنہائی کا شکار ہے، اور اب مقامی آبادی کے خلاف طاقت کا استعمال ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔
تجزیہ کاروں نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ طالبان انتظامیہ منشیات کے خلاف آپریشنز کی آڑ میں درحقیقت بھتہ خوری اور قبضے کے ذریعے غیر قانونی سرگرمیوں کو فروغ دے رہی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر افغانستان میں موجودہ حکومتی ڈھانچے کے تحت عوامی تحفظ کے فقدان کو نمایاں کر دیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…