افغانستان کے صوبے بدخشاں کے ضلع آرگو میں مقامی وسائل پر تنازع کے دوران طالبان فورسز کی جانب سے نہتے شہریوں پر فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ افغان میڈیا کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مقامی آبادی نے وسائل پر قبضے کے خلاف احتجاج کیا، جس کے جواب میں طالبان نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔
رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ احتجاج کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے اور مبینہ مظالم کی پردہ پوشی کے لیے طالبان انتظامیہ نے بدخشاں میں موبائل فون سروس معطل کر دی ہے۔
طالبان کی جانب سے شہریوں پر براہ راست فائرنگ کے اس واقعے نے افغانستان میں انسانی حقوق اور شہریوں کی حفاظت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت پہلے ہی عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ روابط کے باعث تنہائی کا شکار ہے، اور اب مقامی آبادی کے خلاف طاقت کا استعمال ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔
تجزیہ کاروں نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ طالبان انتظامیہ منشیات کے خلاف آپریشنز کی آڑ میں درحقیقت بھتہ خوری اور قبضے کے ذریعے غیر قانونی سرگرمیوں کو فروغ دے رہی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر افغانستان میں موجودہ حکومتی ڈھانچے کے تحت عوامی تحفظ کے فقدان کو نمایاں کر دیا ہے۔
تھائی لینڈ کے سابق وزیراعظم اور ارب پتی کاروباری شخصیت ٹھاکسن شیناواترا کو پیر کے…
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مسلم لیگ ن کے رکن…
برطانیہ کے زیر انتظام دنیا کے دور افتادہ ترین علاقے ٹرسٹن ڈا کونا میں ہینٹا…
ایران کی نوبل انعام یافتہ سماجی کارکن نرگس محمدی کو طبی بنیادوں پر جیل سے…
سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مشترکہ جائیداد کا کوئی…
غزہ میں اسرائیلی فضائی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں اتوار کے…