ضلع چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ممتاز مذہبی اسکالر اور سابق رکن صوبائی اسمبلی مولانا ادریس جاں بحق ہو گئے۔ حملے میں ان کے دو ساتھی بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے مولانا ادریس کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ فائرنگ کے واقعے میں ان کے ہمراہ موجود دو محافظ بھی گولیوں کا نشانہ بن کر شدید زخمی ہوئے ہیں۔
واقعے کے فوری بعد امدادی ٹیموں نے لاش اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ پولیس کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ مختلف سیاسی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے مولانا ادریس کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے محرکات جاننے کے لیے تفتیش کا عمل جاری ہے۔
