آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے یورپی ممالک اور جاپان کا تعاون کا عندیہ

برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز اور جاپان کے رہنماؤں نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں میں تعاون کا اعلان کیا ہے۔ رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ کی حفاظت کے لیے کی جانے والی تیاریوں اور منصوبہ بندی کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث یہ اہم تجارتی روٹ عملی طور پر غیر فعال ہو چکا ہے۔ خطے میں جنگ کا آغاز 28 فروری کو ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بمباری کی، جس کے جواب میں ایران نے خلیج میں امریکی اثاثوں اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز تک رسائی کو محدود کر دیا ہے۔

برطانوی بحری سیکیورٹی ایجنسی یو کے ایم ٹی او کے اعداد و شمار کے مطابق یکم مارچ 2026 سے اب تک خلیج، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں 21 تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جن میں 10 آئل ٹینکرز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے کیے گئے چار مزید حملوں کی بین الاقوامی حکام کی جانب سے تصدیق ہونا باقی ہے۔

مشترکہ بیان میں ایران کی جانب سے غیر مسلح تجارتی جہازوں، تیل و گیس کی تنصیبات اور شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ رہنماؤں نے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر دھمکیاں دینے، بارودی سرنگیں بچھانے اور ڈرون و میزائل حملوں کا سلسلہ بند کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 کی پاسداری کرے۔

عالمی رہنماؤں نے خبردار کیا کہ ایران کے اقدامات کے اثرات دنیا بھر کے عوام بالخصوص پسماندہ طبقوں پر مرتب ہوں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سمندری حدود کے عالمی قوانین کے تحت نیویگیشن کی آزادی ایک بنیادی اصول ہے اور بین الاقوامی شپنگ میں رکاوٹ ڈالنا عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے رہنماؤں نے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر جاری کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ توانائی کی منڈیوں میں استحکام لانے کے لیے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ مل کر پیداوار بڑھانے جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد سے خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت 1200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران کی جوابی کارروائیوں کے بعد سے آبنائے ہرمز، جہاں سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل اور دنیا بھر کی مائع قدرتی گیس کی 20 فیصد تجارت ہوتی ہے، زیادہ تر جہازوں کے لیے بند پڑی ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

ایران کا امریکی ردعمل کا جائزہ، فوجی کارروائی کے نتائج سے خبردار

ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اب ایک مشکل انتخاب کا سامنا…

39 منٹس ago

آج دنیا بھر میں فائر فائٹرز کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

عالمی سطح پر فائر فائٹرز کا عالمی دن آج پیر کو منایا جا رہا ہے…

45 منٹس ago

نفرت اور تشدد کے خاتمے کے لیے قومی مکالمہ ناگزیر ہے، احسن اقبال

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ نارووال میں…

3 گھنٹے ago

عبدالحکیم: ٹرین کی زد میں آکر 19 سالہ نوجوان جاں بحق

ضلع خانیوال کے علاقے عبدالحکیم میں ٹرین کی زد میں آکر انیس سالہ نوجوان جاں…

4 گھنٹے ago

حکومت آزاد اور ذمہ دار میڈیا کے فروغ کے لیے پرعزم ہے، عطا اللہ تارڑ

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت صحافیوں…

5 گھنٹے ago

آبنائے ہرمز میں کشیدگی: امریکی بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے نئے اقدام کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے غیر ملکی بحری جہازوں کو…

5 گھنٹے ago