امریکہ اور ایران کے درمیان کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوئے، ایرانی سفیر

ایران کے سفیر برائے پاکستان رضا امیری مقدم نے بدھ کے روز واضح کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعووں کو مسترد کر دیا جن میں انہوں نے تنازع کے خاتمے کے لیے پیش رفت کا عندیہ دیا تھا۔ سفیر نے میڈیا رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے مابین نہ تو براہ راست اور نہ ہی بالواسطہ کوئی بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوست ممالک کا کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں کرنا فطری عمل ہے۔

ایرانی فوج نے بھی امریکی سفارتی دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔ خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقار نے سرکاری میڈیا کے ذریعے کہا کہ امریکہ درحقیقت خود سے ہی مذاکرات کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں استحکام کا دارومدار ایران کے عسکری موقف پر ہے اور جب تک واشنگٹن اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتا، جنگ سے قبل کے معاشی حالات کی واپسی ممکن نہیں ہے۔

علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب بدھ کی صبح ایران نے میزائلوں اور ڈرون طیاروں کا نیا سلسلہ شروع کیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق حملوں کا ہدف اسرائیل کے علاوہ کویت، اردن اور بحرین میں موجود امریکی تنصیبات تھیں۔ اسرائیل کے وسطی شہروں میں سائرن بج اٹھے، جبکہ کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے سے فیول ٹینک میں آگ لگ گئی۔ اردن میں ملبہ گرنے کی اطلاعات ہیں جبکہ بحرین نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو الرٹ کر دیا ہے۔

یہ تنازع جو 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہوا تھا، اب پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکا ہے۔ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک اور دس لاکھ سے زیادہ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق ایک بڑا تحفہ پیش کیا گیا ہے۔ تاہم تہران کی جانب سے ان دعووں کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔ مبینہ طور پر واشنگٹن پاکستان جیسے ثالثوں کے ذریعے پس پردہ سفارتکاری کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ساتھ ہی امریکی فوج کی جانب سے خطے میں مزید دستے تعینات کرنے کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔

اس کشیدگی کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم کے جین میری پوگم نے خبردار کیا ہے کہ اگر کھاد کی سپلائی میں تعطل برقرار رہا تو اس کے اثرات مستقبل کی زرعی پیداوار اور عالمی غذائی تحفظ پر مرتب ہوں گے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

پلڈاٹ کی رپورٹ: قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاسوں میں بے قاعدگیوں کا انکشاف

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی یعنی پلڈاٹ نے قومی سلامتی کمیٹی کی…

3 منٹس ago

پی ایس ایل 11 ایک نئے دور کا آغاز ہے، شاداب خان

اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان کا کہنا ہے کہ پاکستان سپر لیگ ایک…

9 منٹس ago

عالمی کشیدگی کے باوجود سونے کی قیمتوں میں غیر متوقع گراوٹ کی وجوہات

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے باعث سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی…

14 منٹس ago

میکائیلا شیفرن نے چھٹی بار ورلڈ کپ اسکیئنگ کا ٹائٹل جیت کر ریکارڈ برابر کر دیا

امریکی اسکیئر میکیلا شیفرین نے ناروے میں جاری سیزن کی آخری ریس میں جرمن حریف…

2 گھنٹے ago

لندن: یہودی برادری کی ایمبولینسوں کو نذرِ آتش کرنے کے الزام میں دو افراد گرفتار

لندن میں یہودی برادری کی چار ایمبولینسوں کو نذر آتش کرنے کے واقعے کے سلسلے…

2 گھنٹے ago

وزیراعظم شہباز شریف کا خلیجی ممالک کو غذائی اجناس کی برآمدات بڑھانے کے منصوبے کا جائزہ

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس…

2 گھنٹے ago