یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سعودی عرب پہنچ گئے ہیں جہاں وہ خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کے حالیہ حملوں کے تناظر میں اہم ملاقاتیں کریں گے۔ یہ دورہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کی ایک کوشش ہے۔
یوکرین کی جانب سے خطے کے ان ممالک کو فضائی دفاعی مہارت اور ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی ہے جو ایرانی حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ اس تعاون کے بدلے میں یوکرین روس کے خلاف اپنی جنگ میں ان ممالک سے حمایت کا متمنی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں صدر زیلنسکی نے کہا کہ وہ سعودی عرب پہنچ چکے ہیں اور اہم ملاقاتیں طے شدہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم حمایت کی قدر کرتے ہیں اور ان تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں جو سلامتی کو یقینی بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
اس دورے کے دوران یوکرین کے وزیر دفاع رستم عمروف بھی صدر زیلنسکی کے ہمراہ ہیں۔ یوکرین کی جانب سے حال ہی میں قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں ماہرین کی ٹیمیں بھیجی گئی ہیں، جس کا مقصد اس امداد کے بدلے میں سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کا حصول ہے۔
روس کے ساتھ جاری جنگ پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے اور یوکرینی افواج کو ماسکو کی جانب سے بہار کے نئے حملوں کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں جب امریکہ کی ثالثی میں امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، یوکرین اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز انکشاف کیا ہے کہ کیوبا کی جانب…
روس میں تعینات پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے…
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ اور جوائنٹ چیفس کے چیئرمین جنرل ڈین کین منگل کے…
فیفا نے سن دو ہزار چھبیس کے فٹ بال ورلڈ کپ کے لیے ایک اور…
کیف اور واشنگٹن کے درمیان دفاعی تعاون کے ایک نئے معاہدے کی راہ ہموار ہو…
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ رواں برس موسمیاتی تبدیلیوں اور بحر الکاہل میں ایل…