روس میں تعینات پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بحران کے پیش نظر پاکستان روس سے تیل کی درآمدات میں اضافہ کرنے کا خواہشمند ہے۔ روسی خبر رساں ادارے ٹاس کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کر رہا ہے۔
سفیر فیصل نیاز ترمذی کے مطابق پاکستان اپنی توانائی کی ضرورت کا صرف دس فیصد حصہ خود پیدا کرتا ہے جبکہ باقی ماندہ ضروریات خلیج فارس کے ممالک سے درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے اور روس توانائی کے وسائل کا ایک بڑا سپلائر ہے۔
پاکستان مستقبل میں وسطی ایشیا اور روس سے پائپ لائن بچھانے کے امکانات پر بھی غور کر رہا ہے۔ سفیر نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد یوریشین خطے کو سڑکوں، ریلوے، پائپ لائنوں اور انسانی روابط کے ذریعے آپس میں جوڑنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا ایران کے گرد جاری مذاکرات کا اہم ترین موضوع بن چکا ہے۔
فیصل نیاز ترمذی نے نشاندہی کی کہ دنیا بھر کا بائیس فیصد تیل اور ایل این جی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک میں بڑی تعداد میں غیر ملکی مقیم ہیں جن میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے، اور ان ممالک کی معیشتوں کا انحصار یہاں سے آنے والی ترسیلات زر پر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تنازع کا پرامن حل نکال لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اٹھائیس فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں تجارتی جہاز رانی متاثر ہوئی ہے اور کئی آپریٹرز نے سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنے جہازوں کے راستے تبدیل کر دیے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…