اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ایک ماہ طویل جنگ کے خاتمے اور خطے میں قیام امن کے لیے اہم سفارتی کوششوں کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ انتیس اور تیس مارچ کو اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس میں شرکت کریں گے۔
اس چار ملکی اجلاس کی صدارت پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کریں گے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس ملاقات کا بنیادی مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور ایران اور امریکہ کے مابین تنازعات کو سفارتی مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہے۔
اجلاس کا مقصد خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنانا ہے تاکہ ایک مکمل جنگ کے خطرات کو ٹالا جا سکے۔ اس سے قبل جرمنی کے وزیر خارجہ جوہن ویڈے فہول نے توقع ظاہر کی تھی کہ پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات جلد متوقع ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تہران نے واشنگٹن کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا اعتراف تو نہیں کیا تاہم ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پندرہ نکاتی جنگ بندی منصوبے پر اپنا جواب اسلام آباد کے ذریعے پہنچا دیا ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے میامی میں ایک کاروباری فورم سے خطاب کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اس ہفتے مذاکرات کا امکان ہے۔
تاہم ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ امریکی حملوں کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی دعوت ناقابل قبول ہے۔ عہدیدار کے مطابق تہران کی جانب سے امریکی تجاویز پر حتمی فیصلے کا عمل جاری ہے، بالخصوص ایران کی صنعتی اور جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو…
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ہفتے کی شب ارتھ آور منایا جائے گا جس…
سعودی عرب میں واقع شہزادہ سلطان ایئر بیس پر ہونے والے ایک حملے میں امریکی…
بلوچستان کے ضلع دکی میں پولیس اور انسداد دہشت گردی فورس نے مشترکہ کارروائی کے…
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قوم سے ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا…
اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز ایران کے جوہری تنصیبات اور اہم صنعتی مراکز پر…