امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں مہینوں کے بجائے ہفتوں میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ فرانس میں جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن اپنے اہداف کا حصول زمینی فوج کے بغیر بھی ممکن بنا سکتا ہے۔
روبیو کے مطابق آپریشن اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق یا اس سے آگے بڑھ رہا ہے اور اسے مناسب وقت پر مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ صدر کو ہنگامی صورتحال میں زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے کے لیے کچھ دستے خطے میں تعینات کیے جا رہے ہیں تاہم زمینی جنگ کے طویل ہونے کا امکان رد کیا۔
امریکی وزیر خارجہ نے جی سیون ممالک پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے وہ اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تنازع کے خاتمے کے بعد بھی ایران اس اہم آبی گزرگاہ سے ٹول وصول کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
پینٹاگون کی جانب سے ہزاروں میرینز اور ایلیٹ ایئر بورن فوجیوں کی تعیناتی کے بعد خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اٹھائیس فروری کو ایران کے سپریم لیڈر اور اعلیٰ حکام کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی یہ جنگ ایک طویل زمینی لڑائی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
ایران کی جانب سے خطے میں امریکی و اسرائیلی تنصیبات اور خلیجی ممالک میں اہداف پر جوابی حملوں کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے جس سے معاشی بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ انہیں ایک ہفتے کے اندر ایران کے ساتھ ملاقاتوں کی توقع ہے۔ وٹکوف کے مطابق جنگ بندی کے لیے صدر ٹرمپ کی پندرہ نکاتی تجاویز پر ایران کا جواب جلد متوقع ہے۔ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کا خاتمہ اور دس ہزار کلوگرام افزودہ مواد حوالے کرنا واشنگٹن کی سرخ لکیر ہے۔
اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز کے راستے تجارتی سرگرمیوں کو بلا تعطل جاری رکھنے کے…
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ارتھ آور…
اسرائیل نے ہفتے کے روز یمن سے داغے گئے میزائل کا سراغ لگانے کا دعویٰ…
مغربی ہواؤں کا سلسلہ پاکستان میں داخل ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں آج…
نیپال کے سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکام…
نیپال کے سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی کو کٹھمنڈو پولیس نے گرفتار کر لیا…