چین نے ایمباڈیڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے لیے اپنے پہلے صنعتی معیار کا اعلان کر دیا ہے جو مستقبل کے اے آئی سسٹمز کی جانچ، تشخیص اور تنصیب کے عمل کو نئی سمت دے گا۔
اس اہم معیار کو چائنا اکیڈمی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی نے 40 سے زائد دیگر اداروں کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے۔
نئے ضوابط کا مقصد ایمباڈیڈ اے آئی سسٹمز کی جانچ اور کارکردگی کی پیمائش کے لیے ایک مربوط فریم ورک فراہم کرنا ہے تاکہ ان کی صلاحیتوں کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
یہ معیار بنیادی اے آئی ٹیکنالوجیز، تشخیصی طریقہ کار، سسٹم آرکیٹیکچر اور ضروری صلاحیتوں پر مرکوز ہے، جس کا اطلاق باضابطہ طور پر یکم جون 2026 سے ہو گا۔
یہ پیشرفت وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے فروری میں ہیومنائیڈ روبوٹس اور ایمباڈیڈ انٹیلی جنس کے لیے جاری کردہ فریم ورک کا تسلسل ہے۔
ان اقدامات کا مقصد تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ایمباڈیڈ اے آئی کی صنعت کے لیے تکنیکی بنیادیں اور معیارات قائم کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نئے معیارات نہ صرف جدت طرازی کی رفتار کو تیز کریں گے بلکہ اے آئی سسٹمز کی حفاظت اور کارکردگی کو بھی یقینی بنائیں گے، جس سے چین عالمی سطح پر ایمباڈیڈ اے آئی کے شعبے میں کلیدی حیثیت حاصل کر لے گا۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پاکستان تحریک انصاف پر کڑی تنقید کرتے ہوئے…
ایران نے دبئی میں ایک گودام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جس کے…
انگلینڈ فٹ بال ٹیم کے کوچ تھامس ٹوچل نے ومبلے اسٹیڈیم میں یوراگوئے کے خلاف…
کولمبیا کی بحریہ نے جنوبی بحر الکاہل کے علاقے میں ایک بڑے آپریشن کے دوران…
کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک امریکہ…
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے حج آپریشن دو ہزار چوبیس کے لیے تمام تر انتظامات کو…