نیپال کی پولیس نے ہفتے کے روز علی الصبح سابق وزیر اعظم کھڑگا پرساد اولی کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کی گرفتاری گزشتہ برس ستمبر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران درجنوں افراد کی ہلاکت کے مقدمے میں عمل میں لائی گئی ہے۔ ان مظاہروں کے نتیجے میں اس وقت کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا اور ملک میں نئے انتخابات کرائے گئے تھے۔
حکام نے کمیونسٹ پارٹی کے طاقتور رہنما کو دارالحکومت کھٹمنڈو کے مضافات میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا۔ اسی کارروائی کے دوران سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن پر مظاہرین پر فائرنگ کا حکم دینے کا الزام ہے۔
یہ گرفتاریاں ریپر سے سیاستدان بننے والے بیلیندر شاہ کی سربراہی میں نئی حکومت کے حلف اٹھانے کے ایک روز بعد عمل میں آئی ہیں۔ بیلیندر شاہ کی راشٹریہ سوتنتر پارٹی نے پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کی تھی۔
وزیر داخلہ سوڈان گرونگ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور یہ کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی کا آغاز ہے۔
عبوری حکومت کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اولی، لیکھک اور اس وقت کے پولیس چیف کو دس سال قید کی سزا دینے کی سفارش کی تھی۔ پولیس کی بھاری نفری نے بکتر بند گاڑیوں کی مدد سے ان رہنماؤں کو ان کے گھروں سے گرفتار کیا اور بعد ازاں انہیں کھٹمنڈو ڈسٹرکٹ پولیس آفس منتقل کر دیا۔
گرفتاریوں کے بعد اولی کے حامیوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں مظاہرین نے وزیراعظم ہاؤس کے باہر جمع ہو کر احتجاج کیا اور اپنے رہنما کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے نئی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی، ٹائر جلائے اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں کیں، جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کر کے راستہ صاف کرایا۔ حکام کے مطابق اس دوران سات مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے تاہم کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
گزشتہ برس ستمبر میں کرپشن اور ناقص حکمرانی کے خلاف نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں میں 76 افراد ہلاک اور 2300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ مشتعل ہجوم نے وزیراعظم اور صدر کے دفاتر، تھانوں اور اہم سیاستدانوں کے گھروں کو نذر آتش کر دیا تھا جس کے بعد حکمرانوں کو فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فرار ہونا پڑا تھا۔ ان واقعات کے بعد ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج سشیلہ کارکی کو نیپال کی پہلی خاتون عبوری وزیراعظم مقرر کیا گیا تھا جس کے زیر نگرانی عام انتخابات کا انعقاد ممکن ہوا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت…
امریکا سمیت دنیا بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمرانہ پالیسیوں اور حکومت کے غیر…
حکومت پنجاب نے بہاولپور میں کپاس کی کاشت کو فروغ دینے اور پیداوار میں اضافے…
یورپی اتحادی ممالک نے امریکی سفارت کاروں پر واضح کیا ہے کہ روس، ایران کی…
عالمی یومِ ارض کے موقع پر وزیرِ اعظم کی خصوصی ہدایات پر ملک بھر کی…
اسرائیل کے مختلف شہروں میں مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خلاف ہونے والے غیر…