نیپال: ستمبر 2025 کے پرتشدد مظاہروں میں ہلاکتوں پر سابق وزیراعظم گرفتار

نیپال کی پولیس نے ہفتے کے روز علی الصبح سابق وزیر اعظم کھڑگا پرساد اولی کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کی گرفتاری گزشتہ برس ستمبر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران درجنوں افراد کی ہلاکت کے مقدمے میں عمل میں لائی گئی ہے۔ ان مظاہروں کے نتیجے میں اس وقت کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا اور ملک میں نئے انتخابات کرائے گئے تھے۔

حکام نے کمیونسٹ پارٹی کے طاقتور رہنما کو دارالحکومت کھٹمنڈو کے مضافات میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا۔ اسی کارروائی کے دوران سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن پر مظاہرین پر فائرنگ کا حکم دینے کا الزام ہے۔

یہ گرفتاریاں ریپر سے سیاستدان بننے والے بیلیندر شاہ کی سربراہی میں نئی حکومت کے حلف اٹھانے کے ایک روز بعد عمل میں آئی ہیں۔ بیلیندر شاہ کی راشٹریہ سوتنتر پارٹی نے پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کی تھی۔

وزیر داخلہ سوڈان گرونگ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور یہ کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی کا آغاز ہے۔

عبوری حکومت کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اولی، لیکھک اور اس وقت کے پولیس چیف کو دس سال قید کی سزا دینے کی سفارش کی تھی۔ پولیس کی بھاری نفری نے بکتر بند گاڑیوں کی مدد سے ان رہنماؤں کو ان کے گھروں سے گرفتار کیا اور بعد ازاں انہیں کھٹمنڈو ڈسٹرکٹ پولیس آفس منتقل کر دیا۔

گرفتاریوں کے بعد اولی کے حامیوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں مظاہرین نے وزیراعظم ہاؤس کے باہر جمع ہو کر احتجاج کیا اور اپنے رہنما کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے نئی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی، ٹائر جلائے اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں کیں، جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کر کے راستہ صاف کرایا۔ حکام کے مطابق اس دوران سات مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے تاہم کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

گزشتہ برس ستمبر میں کرپشن اور ناقص حکمرانی کے خلاف نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں میں 76 افراد ہلاک اور 2300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ مشتعل ہجوم نے وزیراعظم اور صدر کے دفاتر، تھانوں اور اہم سیاستدانوں کے گھروں کو نذر آتش کر دیا تھا جس کے بعد حکمرانوں کو فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فرار ہونا پڑا تھا۔ ان واقعات کے بعد ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج سشیلہ کارکی کو نیپال کی پہلی خاتون عبوری وزیراعظم مقرر کیا گیا تھا جس کے زیر نگرانی عام انتخابات کا انعقاد ممکن ہوا۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

ایران کا پاکستانی پرچم بردار 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت…

6 سیکنڈز ago

امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کا آغاز

امریکا سمیت دنیا بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمرانہ پالیسیوں اور حکومت کے غیر…

5 منٹس ago

پنجاب حکومت کا کپاس کی کاشت کے فروغ کے لیے 50 ہزار روپے سبسڈی دینے کا اعلان

حکومت پنجاب نے بہاولپور میں کپاس کی کاشت کو فروغ دینے اور پیداوار میں اضافے…

11 منٹس ago

روس ایران کی توقع سے زیادہ عسکری مدد کر رہا ہے، یورپی اتحادیوں کا انکشاف

یورپی اتحادی ممالک نے امریکی سفارت کاروں پر واضح کیا ہے کہ روس، ایران کی…

60 منٹس ago

ملک بھر میں ارتھ آور منایا گیا، اہم سرکاری عمارتوں کی بتیاں ایک گھنٹے کے لیے گل رہیں

عالمی یومِ ارض کے موقع پر وزیرِ اعظم کی خصوصی ہدایات پر ملک بھر کی…

1 گھنٹہ ago

اسرائیل میں جنگ کے خلاف مظاہرے، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں

اسرائیل کے مختلف شہروں میں مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خلاف ہونے والے غیر…

1 گھنٹہ ago