تل ابیب اور اسرائیل کے دیگر شہروں میں مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خلاف ہونے والے غیر قانونی مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے واقعات پیش آئے ہیں۔ پولیس نے شہر میں کارروائی کرتے ہوئے 13 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
تل ابیب میں موجود خبر رساں ادارے کے نمائندوں کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں کئی افراد زمین پر گر گئے۔ ایک ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اہلکار ایک مظاہرین کا گلا دبوچ کر اسے حراست میں لے رہے ہیں۔
اسی طرح کے مناظر شمالی شہر حیفہ میں بھی دیکھے گئے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظاہرین کو زبردستی ہٹایا۔ اگرچہ ان مظاہروں میں شرکاء کی تعداد گزشتہ برس غزہ جنگ کے خلاف نکلنے والے ہزاروں افراد کے مقابلے میں کم ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔
گزشتہ روز ہونے والے ان مظاہروں میں سابق پارلیمنٹرینز اور بائیں بازو کی نمایاں تنظیموں نے بھی شرکت کی۔ ان تنظیموں میں سٹینڈنگ ٹوگیدر، پیس ناؤ اور ویمن ویج پیس شامل ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…