ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے منگل کے روز یورپی کونسل کے صدر سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہا ہے کہ تہران اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ضروری عزم رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایسے ٹھوس ضمانتوں کا حصول ناگزیر ہے جن سے مستقبل میں جارحیت کے اعادہ کو روکا جا سکے۔
ایرانی صدر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہم تنازع ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں بشرطیکہ بنیادی شرائط پوری کی جائیں اور جارحیت کے خاتمے کی ایسی ضمانتیں فراہم کی جائیں جن سے دوبارہ جنگ چھڑنے کا خدشہ نہ رہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کے 15 نکاتی منصوبے کے جواب میں ایران نے پانچ نکاتی جوابی تجاویز پیش کی ہیں۔ ان تجاویز میں جارحیت کے مکمل خاتمے اور ایک ایسے میکانزم کی تشکیل پر زور دیا گیا ہے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ اسرائیل اور امریکہ دوبارہ جنگ کی طرف نہ لوٹیں۔
صدر پزشکیان نے مزید کہا کہ خطے میں صورتحال کو معمول پر لانے کا واحد حل جارحانہ کارروائیوں کا فوری بند ہونا ہے۔
واضح رہے کہ یہ تنازع 28 فروری کو اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملوں کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر ہلاک ہوئے اور اس کے بعد سے خطے بھر میں میزائل اور ڈرون حملوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
پاکستان کی قیادت کو مشرق وسطیٰ میں امن کوششوں کو فروغ دینے اور امریکی صدر…
بغداد میں منگل کے روز امریکی صحافی شیلی کٹلسن کو نامعلوم افراد نے اغوا کر…
اطالوی حکومت نے گزشتہ ہفتے امریکی فوجی طیاروں کو سسلی کے سگونیلہ ایئربیس پر اترنے…
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے منگل کے روز ایک ہنگامی بیان جاری کرتے ہوئے خبردار…
تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایرانی ہلال احمر نے امریکہ اور اسرائیل کے مبینہ…
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وکلاء کے لیے عدالتی کارروائی کے دوران گاؤن پہننے کی…