پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی کے خاتمے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا نیا دور چین کے شہر ارومچی میں شروع ہو گیا ہے۔ اس پیش رفت سے واقف دو اعلیٰ پاکستانی حکام نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے نمائندے چین کی ثالثی میں جاری مذاکرات میں شریک ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے تاحال اس پیش رفت کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات ڈائریکٹر جنرل کی سطح پر ہو رہے ہیں جس میں پاکستان کی جانب سے دفتر خارجہ کے سینئر افسران کے علاوہ عسکری اور انٹیلی جنس حکام شامل ہیں۔ افغان وفد میں وزارت داخلہ، وزارت خارجہ اور افغان انٹیلی جنس کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔
سن دو ہزار اکیس میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے۔ اسلام آباد مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کی جائیں، خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے، تاہم کابل کی جانب سے ان مطالبات پر خاطر خواہ عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
چھبیس فروری کی شب افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے بعد پاکستان نے آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا تھا۔ اٹھارہ سے تیئیس مارچ تک عید الفطر کے موقع پر پاکستان نے آپریشن میں پانچ روزہ عارضی وقفہ کیا تھا، تاہم دفتر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ آپریشن اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔
دونوں جانب سے کیے گئے جنگ بندی کے اعلانات اور کشیدگی میں کمی کے حالیہ اقدامات کے پس منظر میں سعودی عرب، قطر اور ترکی کی جانب سے کی گئی اپیلیں بھی شامل ہیں۔
شمالی اسرائیل کا سرحدی شہر کریات شمونہ مسلسل راکٹ حملوں اور جنگی کشیدگی کی زد…
خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی اور سمندری راستوں پر پیدا ہونے والے بحران کے باعث…
تہران میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے…
پنجاب بھر کے کالجز اور جامعات میں بھی ہفتے میں چار دن تدریسی عمل جاری…
برطانیہ رواں ہفتے 35 ممالک کا ایک اہم اجلاس طلب کر رہا ہے جس کا…
لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس کی تازہ ترین تجزیاتی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی…