ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایران کے ساتھ جنگ کے جلد خاتمے کی امیدیں دم توڑ گئیں

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید جارحانہ کارروائیوں کا اعلان کر دیا۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں جس سے دنیا بھر کے صارفین پر مہنگائی کا بوجھ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے بدھ کی شب قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگلے دو سے تین ہفتوں کے دوران ایران پر انتہائی شدید حملے کیے جائیں گے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ ایران کو پتھر کے دور میں دھکیل دیا جائے گا۔ امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر ایرانی قیادت نے واشنگٹن کی شرائط نہ مانیں تو جنگ میں مزید شدت آ سکتی ہے جس میں ایران کے توانائی کے مراکز اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔

دوسری جانب ایرانی مسلح افواج نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ انہیں مزید تباہ کن اور وسیع حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایرانی فوج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایک بیان میں کہا کہ یہ جنگ دشمنوں کی مکمل شکست اور ندامت تک جاری رہے گی۔

اس کشیدگی کے اثرات عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی نمایاں ہیں۔ برینٹ کروڈ کی قیمت ساڑھے سات فیصد اضافے کے ساتھ 108 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ امریکی اور یورپی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی جبکہ ایشیائی منڈیوں میں بھی گراوٹ کا رجحان رہا۔ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیان سے مارکیٹوں میں اعتماد بحال نہیں ہو سکا اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ جنگ کب ختم ہوگی۔

خطے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ 28 فروری سے جاری لڑائی میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے مزید میزائل حملوں کی اطلاع دی ہے جبکہ سعودی عرب نے چار ڈرونز اور ابوظہبی نے ایک میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ بغداد میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو عراق چھوڑنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ اگلے 48 گھنٹوں میں ایران نواز ملیشیا کی جانب سے حملوں کا خدشہ ہے۔

آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے جس پر صدر ٹرمپ نے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ادھر آئی ایم ایف، عالمی بینک اور انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کے نام خط میں کہا ہے کہ ان کا ملک عام امریکیوں سے دشمنی نہیں رکھتا۔ تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک جنگ بندی کی ضمانت نہیں ملتی، حملے جاری رہیں گے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ کسی معاہدے کے بغیر جنگ ختم کرتے ہیں تو ایران مزید طاقتور ہو کر ابھر سکتا ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

کراچی میں موسلادھار بارش، شہر بھر میں ہنگامی حالت نافذ

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جمعرات کو ہونے والی موسلادھار بارشوں نے…

42 سیکنڈز ago

اطالوی وزیر کھیل کا فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ سے استعفے کا مطالبہ

اطالوی وزیر کھیل اینڈریا ابودی نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کی فٹ بال فیڈریشن…

6 منٹس ago

برطانوی بحری حملے میں تباہ ہونے والے ڈینش جنگی جہاز کا ملبہ 225 سال بعد دریافت

کوپن ہیگن کے ساحل پر سمندری ماہرین آثار قدیمہ نے دو سو سال سے زائد…

45 منٹس ago

آبنائے ہرمز کو طاقت کے زور پر کھولنا غیر حقیقت پسندانہ ہے، میکرون

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے آبنائے ہرمز کو طاقت کے زور پر کھولنے کے لیے…

50 منٹس ago

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت توانائی بحران پر اعلیٰ سطحی اجلاس

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت توانائی کے ممکنہ بحران اور علاقائی…

56 منٹس ago

آبنائے ہرمز کو طاقت کے زور پر کھولنا غیر حقیقت پسندانہ ہے، فرانسیسی صدر

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے آبنائے ہرمز کو طاقت کے زور پر کھولنے کے لیے…

1 گھنٹہ ago