یورپی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد اسلامی دور کے علمی کارناموں پر رکھی گئی، مورخین کا انکشاف

یورپی نشاۃ ثانیہ، جسے اکثر کلاسیکی علوم کی بازگشت قرار دیا جاتا ہے، درحقیقت اسلامی دنیا میں ہونے والی سائنسی، تکنیکی اور فلسفیانہ ترقی کی مرہون منت ہے۔ مورخین کا ماننا ہے کہ اسلامی سنہری دور نے وہ بنیادی علمی اثاثہ اور نظریات فراہم کیے جنہیں بعد ازاں یورپی مفکرین نے نہ صرف اپنایا بلکہ ان میں مزید وسعت پیدا کی۔

اسلام کی آمد ساتویں صدی عیسوی میں ہوئی جس نے مغربی عرب سے شروع ہو کر بحیرہ روم اور ایشیا تک کے مختلف ثقافتی خطوں کو ایک وحدانی عقیدے کے تحت یکجا کر دیا۔ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے بعد، 632 عیسوی میں آپ کی وفات کے بعد مسلم حکمرانوں نے اپنی حدود کو وسیع کرتے ہوئے ساسانی سلطنت کو شکست دی اور بازنطینی اثر و رسوخ کو کم کر کے شمالی افریقہ اور جنوبی یورپ کے حصوں تک اپنی حکمرانی قائم کی۔

قرآن کریم کی تلاوت پر زور دینے کے نتیجے میں اسلامی دنیا میں شرح خواندگی میں اضافہ ہوا، جس نے علمی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔ اس کے برعکس، اس دور میں یورپ کا علم زیادہ تر مذہبی اشرافیہ تک محدود تھا جو لاطینی زبان میں تحریر کردہ مذہبی متون کی تشریح کے پابند تھے۔

عباسی خلافت کے دور میں، جس کا آغاز 750 عیسوی کے قریب ہوا، بغداد علم و حکمت کا مرکز بن کر ابھرا۔ یہاں بیت الحکمت قائم کی گئی جو سائنس، فلکیات اور فلسفے کے اہم ترین علمی ذخیروں میں سے ایک تھی۔ یہاں کے سکالرز نے یونانی، لاطینی، فارسی اور سنسکرت زبانوں کے علمی کاموں کا عربی میں ترجمہ کیا، جس کے بعد عربی زبان پوری سلطنت میں سائنسی رابطے کی زبان بن گئی۔ اس علمی عمل میں مسیحی اور یہودی سکالرز نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

کاغذ کی ٹیکنالوجی، جو چین سے درآمد کی گئی تھی، نے علم کی ترسیل کو آسان بنایا اور بعد ازاں یورپی پرنٹنگ پریس کی ایجاد میں معاون ثابت ہوئی۔ اسلامی علوم کے اثرات نشاۃ ثانیہ کے نامور شخصیات پر بھی نمایاں ہیں۔ اطالوی مفکر لیونارڈو ڈاونچی نے لاطینی زبان میں ترجمہ شدہ عربی سائنسی کاموں کا مطالعہ کیا تھا۔ خاص طور پر ابن الہیثم کا نظریاتِ بصارت اور روشنی پر کام، جسے کیمرہ آبسکیورا کے اصولوں سے تعبیر کیا جاتا ہے، ڈاونچی کے فن پاروں جیسے دی لاسٹ سپر اور مونا لیزا میں لکیری تناظر کی تکنیک کے لیے بنیاد بنا۔

فلکیات کے میدان میں نکولس کوپرنیکس نے نصیر الدین الطوسی کے کام سے استفادہ کیا، جبکہ ریاضی میں ہندوستانی نژاد عرب ہندسوں اور الجبرا کے استعمال نے یورپ میں حساب کتاب اور بینکاری کے نظام میں انقلاب برپا کر دیا۔ مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ یورپی نشاۃ ثانیہ اور اسلامی سنہری دور کے درمیان گہرا تعلق ہے، اور جدید سائنس و ثقافت درحقیقت اسی مشترکہ علمی ورثے کا تسلسل ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

مغربی میکسیکو میں اجتماعی قبروں سے 11 افراد کی باقیات برآمد

میکسیکو کے مغربی علاقے میں حکام نے کم از کم 11 افراد کی باقیات دریافت…

35 منٹس ago

دبئی کی جانب سے غیر ملکی پروازوں پر پابندی، بھارتی ایئر لائنز شدید متاثر

دبئی کی جانب سے ایران میں جاری کشیدگی کے پیش نظر غیر ملکی ایئر لائنز…

40 منٹس ago

امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان کے کردار پر فرانس کی ستائش

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فرانسیسی وزیر خارجہ جین نوئل…

46 منٹس ago

متحدہ عرب امارات کا ایرانی حملے کے بعد عالمی تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ

متحدہ عرب امارات نے ایران کی حالیہ جارحیت کے بعد اپنے علاقائی اور بین الاقوامی…

51 منٹس ago

ایران جنگ کے باعث لبنان کو شدید غذائی بحران کا سامنا، عالمی ادارہ خوراک کی وارننگ

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ لبنان شدید غذائی بحران…

58 منٹس ago

لبنان میں ایران جنگ کے باعث غذائی بحران کا خدشہ: عالمی ادارہ خوراک کی وارننگ

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں جاری جنگ…

2 گھنٹے ago