آسٹریلیا نے امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے جنگ بندی کو برقرار رکھیں۔ آسٹریلوی وزیر خارجہ نے بات چیت کے عمل میں تعطل کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنازع کا پائیدار حل نکالنا ناگزیر ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران زیادہ تر معاملات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے جبکہ محض دو سے تین نکات پر تاحال اختلافات باقی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک ہی دور میں حتمی معاہدے کی توقع رکھنا غیر حقیقت پسندانہ ہے کیونکہ پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔
ایرانی ترجمان کے مطابق مذاکرات میں شامل ہونے والے نئے موضوعات اور بدلتی ہوئی صورتحال نے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے پاکستان اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے گا اور سفارتی کوششوں کو تیز کرے گا۔
اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کے تناظر میں کہا تھا کہ ایران اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ملکی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ایران کا موقف ہے کہ عالمی سطح پر اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے سفارتی راستہ ہی بہترین حل ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز سی بی ایس نیوز کی سینیئر نامہ نگار…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
پنجاب اسمبلی کا اجلاس بدھ ۱۵ اپریل کو طلب کر لیا گیا ہے۔ گورنر پنجاب…
پوپ لیو چہار دہم نے پیر کے روز واضح کیا ہے کہ وہ امریکی انتظامیہ…
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ اسرائیل ایک دشمن کے بغیر…
فیصل آباد کے علاقے کھرڑیانوالہ میں گھریلو تنازع پر بیوی اور دو بیٹیوں کو قتل…