مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ فلم: فلم سازوں کا اخلاقی معیارات پر کاربند رہنے کا دعویٰ

ہالی وڈ کی نئی فلم میں آنجہانی اداکار ویل کلمر کی مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے تخلیق کردہ کارکردگی پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ فلم سازوں نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے اسے مستقبل میں ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال کی ایک عمدہ مثال قرار دیا ہے۔

فلم ایز ڈیپ ایز دی گریو کے ہدایت کار اور مصنف کوریٹ وور ہیز اور ان کے بھائی جان وور ہیز کا کہنا ہے کہ انہوں نے ویل کلمر کے بچوں سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنے کے بعد ہی اے آئی کا استعمال کیا ہے۔ اس فلم کی کہانی نیو میکسیکو میں ناواہو قبائل کی تاریخ تلاش کرنے والے ماہرین آثار قدیمہ کے گرد گھومتی ہے۔

فلم سازوں کے مطابق ویل کلمر کی کارکردگی کو دوبارہ تخلیق کرنے کے لیے ان کی آرکائیول فوٹیج، تصاویر اور صوتی ریکارڈنگز کا سہارا لیا گیا ہے۔ فلم کے ہدایت کار کوریٹ وور ہیز نے لاس ویگاس میں سینما کون کنونشن کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مکمل یقین ہے کہ اس فلم کے لیے یہ درست فیصلہ تھا اور وہ شائقین کی رائے جاننے کے لیے بے تاب ہیں۔

آنجہانی اداکار ویل کلمر، جو ٹاپ گن جیسی مشہور فلموں کے لیے جانے جاتے ہیں، نے کئی برس قبل اس فلم میں کام کرنے کا معاہدہ کیا تھا تاہم خراب صحت کے باعث وہ سیٹ پر نہ پہنچ سکے۔ ویل کلمر گزشتہ برس 65 برس کی عمر میں گلے کے کینسر کے باعث انتقال کر گئے تھے۔

فلم کے جاری ہونے والے ٹریلر میں ویل کلمر کو فادر فنٹن کے کردار میں دکھایا گیا ہے جو ایک کیتھولک پادری اور مقامی امریکی روحانیت پسند ہیں۔ ٹریلر میں ان کا ڈیجیٹل روپ یہ کہتے سنائی دیتا ہے کہ مردوں سے مت ڈرو اور مجھ سے بھی مت ڈرو۔

سوشل میڈیا پر اس ٹریلر کے منظر عام پر آنے کے بعد ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے، جہاں کچھ صارفین نے اسے خوفناک اور ناگوار قرار دیا ہے۔ تاہم فلم سازوں کا دعویٰ ہے کہ فلم دیکھنے والے یہ فرق نہیں کر پائیں گے کہ یہ اصل انسانی اداکاری ہے یا اے آئی کا کمال۔

جان وور ہیز نے واضح کیا کہ انہوں نے اداکار یونین سیگ افٹرا کی جانب سے اے آئی کے استعمال کے لیے مقرر کردہ تمام ضابطہ اخلاق کی پیروی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویل کلمر کی فیملی نے نہ صرف اس کام کی اجازت دی بلکہ فنی معاملات میں ہر ممکن تعاون بھی کیا ہے۔

ہالی وڈ میں کئی اداکار اپنی شبیہ کے غیر مجاز استعمال پر تشویش کا شکار ہیں، جس کے جواب میں فلم سازوں کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹیکنالوجی میں تیزی سے آتی تبدیلیاں لوگوں کے لیے پریشان کن اور غیر یقینی صورتحال کا باعث ضرور ہیں۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

3 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

3 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

3 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

3 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

3 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

3 ہفتے ago