بھارت نے آبنائے ہرمز میں اپنے پرچم بردار دو خام تیل کے ٹینکرز پر ہونے والے حملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تہران کے سفیر کو طلب کر لیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق یہ واقعہ ہفتے کے روز پیش آیا جب یہ بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
بھارتی حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والے جہازوں میں سے ایک کا نام سنمار ہیرالڈ ہے۔ حکام کے مطابق خوش قسمتی سے جہاز پر موجود عملہ محفوظ ہے اور جہاز کو بھی کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔
بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے نئی دہلی میں تعینات ایرانی سفیر محمد فتح علی کو طلب کر کے واقعے پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ملاقات کے دوران بھارت نے اس فائرنگ کے واقعے پر اپنی گہری تشویش سے آگاہ کیا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق سیکریٹری خارجہ نے ایرانی سفیر پر زور دیا کہ وہ نئی دہلی کے تحفظات سے اپنی حکومت کو فوری طور پر آگاہ کریں۔ بھارت نے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بھارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حمل کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے۔
جواب میں ایرانی سفیر نے بھارتی قیادت کو یقین دلایا ہے کہ وہ ان تحفظات کو تہران میں متعلقہ حکام تک پہنچائیں گے تاکہ اس مسئلے کا مناسب حل نکالا جا سکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…