ترکی نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری دو ہفتوں پر محیط جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے پرامید ہونے کا اظہار کیا ہے۔ یہ جنگ بندی بدھ کے روز ختم ہو رہی ہے۔ انطالیہ ڈپلومیسی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ کوئی بھی فریق جنگ بندی کے خاتمے کے بعد نئی جنگ کا آغاز نہیں دیکھنا چاہتا، اس لیے انہیں قوی امید ہے کہ متعلقہ فریقین اس وقفے کو مزید بڑھا دیں گے۔
ہاکان فیدان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا عمل بڑی حد تک مکمل ہو چکا ہے، تاہم کچھ معاملات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان اختلافات کے باوجود جنگ بندی میں توسیع ناگزیر ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود جنوبی لبنان میں زمینوں پر قبضے کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اسرائیلی توسیع پسندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لبنان میں حقائق کو زبردستی تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کی وجہ سے عالمی توجہ لبنان کی صورتحال سے ہٹ رہی ہے اور اسرائیل اس غفلت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے۔
اس سے قبل 15 اپریل کو ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی کہا تھا کہ انقرہ، امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ ایران کا پڑوسی ملک ہونے کے ناطے ترکی اس معاملے پر امریکہ، ایران اور ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ ترکی نے بارہا اس جنگ کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹوٹنہم ہاٹ سپر کے منیجر رابرٹو ڈی زربی نے برائٹن کے خلاف دو دو سے…
آسٹریا میں بچوں کی خوراک بنانے والی معروف ڈچ کمپنی ہپ کی مصنوعات میں چوہے…
لندن میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایران میں شروع ہونے والی جنگ…
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کے نمائندے پیر کی شام…
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں واقع ایک یہودی عبادت گاہ (سنیگوگ) کو آتش زنی کے…