ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایرانی فوج نے خلیج عمان میں امریکی بحری جہازوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ کارروائی ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز کو قبضے میں لیے جانے کے ردعمل میں کی گئی ہے۔
تسنیم نیوز کے مطابق یہ حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کیے گئے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحریہ نے اتوار کے روز توسکا کنٹینر شپ کو ناکارہ بنا کر اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی پٹی پر امریکی بحری ناکہ بندی کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے غیر قانونی اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اتوار کو جاری کردہ بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ ناکہ بندی بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے منافی اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ امریکی اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق دو چار کی خلاف ورزی ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 کے تحت جارحیت کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی ملک کی بندرگاہوں یا ساحلوں کی ناکہ بندی جارحانہ فعل ہے۔
اسماعیل بقائی نے زور دیا کہ یہ اقدامات ایرانی عوام کے خلاف اجتماعی سزا کے مترادف ہیں جو جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم تصور کیے جاتے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…