ٹرمپ کی برطانوی وزیراعظم کی حمایت، پیٹر مینڈلسن تنازع سے نکلنے کی پیشگوئی

لندن میں برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر ایک بار پھر شدید سیاسی بحران کی زد میں آ گئے ہیں۔ یہ تنازع پیٹر مینڈلسن کو واشنگٹن میں برطانیہ کا سفیر مقرر کرنے کے فیصلے کے گرد گھوم رہا ہے، جن کے آنجہانی امریکی فنانسر اور مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ قریبی مراسم تھے۔ اپوزیشن اور پارلیمنٹ کے ارکان کی جانب سے اسٹارمر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی شام اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کیئر اسٹارمر نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے سفیر کے انتخاب میں غلط فیصلہ کیا اور وہ اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ ایک انتہائی برا انتخاب تھا، تاہم ان کے مطابق اسٹارمر کے پاس سنبھلنے کا کافی وقت موجود ہے۔

اسٹارمر نے پیر کے روز پارلیمنٹ میں جیفری ایپسٹین کے متاثرین اور برطانوی عوام سے ایک بار پھر معافی مانگی۔ وزیراعظم کا موقف ہے کہ انہیں تقرری کے وقت مینڈلسن کے ایپسٹین کے ساتھ گہرے تعلقات کا علم نہیں تھا۔ انہوں نے اس ناکامی کا ذمہ دار برطانوی دفتر خارجہ کو ٹھہرایا کہ انہوں نے جنوری 2025 میں ہونے والی سیکیورٹی ویٹنگ کے دوران کابینہ کو ان خدشات سے آگاہ نہیں کیا۔

اسٹارمر نے اس صورتحال کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں علم ہوتا تو وہ یہ تقرری کبھی نہ کرتے۔ اس معاملے پر گزشتہ ہفتے انہوں نے دفتر خارجہ کے سینئر ترین سول سرونٹ سر اولی رابنز کو عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔

تاہم، پارلیمنٹ کے ہنگامہ خیز اجلاس میں وزیراعظم کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اپوزیشن ارکان نے ان پر جھوٹ بولنے یا نااہلی کا الزام عائد کیا۔ ایوان میں تلخ کلامی کے باعث دو ارکان کو باہر نکال دیا گیا، جبکہ لیبر پارٹی چھوڑنے والی زارا سلطانہ نے وزیراعظم کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ان سے اخلاقی بنیادوں پر استعفے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب، برطرف کیے گئے سول سرونٹ سر اولی رابنز نے منگل کے روز ہاؤس آف کامنز کی خارجہ امور کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم آفس کی جانب سے شدید دباؤ تھا کہ مینڈلسن کو جلد از جلد امریکہ بھیجا جائے۔ رابنز نے دعویٰ کیا کہ اسٹارمر اور ان کی کابینہ کا سیکیورٹی ویٹنگ کے حوالے سے رویہ غیر سنجیدہ اور تضحیک آمیز تھا۔

پیٹر مینڈلسن کو ستمبر میں سفیر کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا، جس کے بعد ان پر حساس مارکیٹ معلومات شیئر کرنے کے الزامات کے تحت تحقیقات بھی ہوئیں۔ اگرچہ ان کی ضمانت کی شرائط ختم کر دی گئی ہیں، لیکن وہ بدستور تحقیقات کے دائرہ کار میں ہیں۔ مئی میں ہونے والے مقامی انتخابات سے قبل لیبر پارٹی کی گرتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر اسٹارمر کے لیے یہ سیاسی بحران مزید سنگین ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

4 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

4 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

4 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

4 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

4 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

4 ہفتے ago