میانمار کے فوجی حکمران اور صدر من آنگ ہلینگ نے ملک کے ساٹھ ٹاؤن شپس میں فوجی کنٹرول مزید سخت کرنے کے لیے نئے ہنگامی آرڈیننس جاری کر دیے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ان علاقوں میں سیکیورٹی کو مزید مستحکم کرنا ہے جہاں طویل عرصے سے مسلح تنازعات جاری ہیں۔
سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ان آرڈیننسز کا اطلاق کاچین، کایا، کایین، چن، شان اور رکھائن ریاستوں کے علاوہ ساگنگ، مگوی اور منڈالے کے علاقوں پر ہوگا۔ ان علاقوں میں 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے پہلے ہی مختلف پابندیاں اور کرفیو نافذ تھے۔
حکومت نے ان اقدامات کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد مسلح دہشت گردی کا خاتمہ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔ نوے روز پر محیط اس ہنگامی مدت کے دوران ان علاقوں میں تمام انتظامی اور عدالتی اختیارات میانمار کے نئے فوجی سربراہ یے ون او کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔
اپریل کے اوائل میں صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد من آنگ ہلینگ کا یہ پہلا بڑا قدم ہے جس کے ذریعے وہ جنگ سے متاثرہ علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں فوجی حمایت یافتہ جماعت کی کامیابی کے بعد ہونے والے انتخابات کو عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
میانمار میں سیاسی بحران کا آغاز 2021 میں اس وقت ہوا جب فوج نے نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ اس اقدام کے خلاف ملک گیر مظاہرے شروع ہوئے جو بعد ازاں مسلح مزاحمت میں تبدیل ہو گئے۔ فوجی جنتا نے بغاوت کے بعد ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کی تھی جسے بارہا توسیع دی گئی اور بعد ازاں دسمبر اور جنوری میں متنازع انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…