انڈونیشیا: معدومی کے خطرے سے دوچار اورنگوٹان کا سڑک پار کرنے کے لیے انسانی ساختہ پل کا استعمال

انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں پہلی بار ایک سوماتران اورنگوٹان کو عوامی سڑک عبور کرنے کے لیے انسانوں کے تیار کردہ مصنوعی پل کا استعمال کرتے ہوئے ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ عمل معدومیت کے خطرے سے دوچار اس نسل کے تحفظ کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

سماٹرن اورنگوٹان سوسائٹی (ایس او ایس) کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک نوجوان اورنگوٹان جنگل کے کنارے رکتا ہے، احتیاط کے ساتھ رسی کو پکڑتا ہے اور پھر فضا میں معلق پل پر قدم رکھتا ہے۔ راستے کے بیچ میں رک کر وہ نیچے سڑک کا جائزہ لیتا ہے اور پھر کیمرے کی جانب ایک ہلکی سی نظر ڈال کر اپنے سفر کو جاری رکھتا ہے۔

انڈونیشیا کے تحفظِ ماحول کے گروپ تانگوح ہوتان خطوِ استوا (تاہوکاہ) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایرون عالمشاہ سیریگر نے بتایا کہ یہ پل پاکپاک بھارت ڈسٹرکٹ میں لاگان-پاگیندار روڈ پر نصب کیا گیا ہے۔ یہ سڑک مقامی دیہاتوں کو اسکولوں اور طبی مراکز سے ملانے کے لیے اہم ہے، تاہم اس نے تین سو پچاس اورنگوٹانز کے مسکن کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔

سال ۲۰۲۴ میں جب سڑک کو اپ گریڈ کیا گیا تو جنگل کا درمیانی خلا مزید بڑھ گیا جس سے درختوں پر رہنے والے جانوروں کے لیے قدرتی گزرگاہیں ختم ہو گئیں۔ سیریگر کے مطابق انسانی ترقی ضروری تھی مگر اس مداخلت کے بغیر اورنگوٹانز سڑک کے دونوں جانب پھنس کر رہ گئے تھے۔

تاہوکاہ اور ایس او ایس نے مقامی حکومت کے ساتھ مل کر رسیوں پر مشتمل پانچ پل نصب کیے جنہیں کیمرہ ٹریپس کے ذریعے مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ دنیا میں کسی عوامی سڑک پر سوماتران اورنگوٹان نے اس مصنوعی راستے کا استعمال کیا ہے۔ اس سے قبل گبن اور لنگور جیسے جانور بھی ان پلوں کا استعمال کر چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اورنگوٹان بہت محتاط ہوتے ہیں اور انہوں نے اس پل کو استعمال کرنے میں دو سال لگائے۔ وہ پہلے پل کے قریب گھونسلے بناتے رہے اور رسیوں کو پرکھتے رہے۔ سیریگر کے مطابق وہ جلد بازی نہیں کرتے، مشاہدہ کرتے ہیں اور جب انہیں مکمل اطمینان ہو جائے تب ہی آگے بڑھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سڑکوں پر ٹریفک کا شور اور غیر متوقع صورتحال اورنگوٹانز کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ ان جانوروں کا الگ تھلگ رہنا ان کی نسل کے لیے خطرہ ہے کیونکہ اس سے جینیاتی کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ اب یہ مصنوعی پل ان کے لیے ایک نئی امید بنے ہیں تاکہ وہ ایک دوسرے سے مل سکیں اور اپنی آبادی کو محفوظ رکھ سکیں۔

دنیا بھر میں اب محض چودہ ہزار سے کم سوماتران اورنگوٹان جنگلوں میں باقی بچے ہیں۔ تحفظِ ماحول کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ تقسیم شدہ جنگلات کو دوبارہ جوڑنا ممکن ہے اور یہ اقدامات ان جانوروں کو معدومیت سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

کویت میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت: ڈیموکریٹک سینیٹرز کی پینٹاگون کے خلاف تحقیقات کا آغاز

امریکی سینیٹ کے چار ڈیموکریٹک ارکان نے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی ڈرون…

30 منٹس ago

نشان آباد میں تلخ کلامی کے بعد 24 سالہ نوجوان فائرنگ سے جاں بحق

فیصل آباد کے علاقے نشاط آباد میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے چوبیس سالہ…

37 منٹس ago

’دی ڈیول ویئر پراڈا‘: مرانڈا پرسٹلی کے کردار کے پیچھے چھپی حقیقت کا انکشاف

مشہور ہالی وڈ فلم دی ڈیول ویئر پراڈا کی اداکارہ ایملی بلنٹ نے انکشاف کیا…

2 گھنٹے ago

نائیجیریا: 2026 میں 33 ریاستوں میں شدید سیلاب کا خدشہ، ہائی الرٹ جاری

نائجیریا کی ہائیڈرولوجیکل سروسز ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ سال 2026 کے دوران ملک…

2 گھنٹے ago

پاکستان اور سری لنکا کی مشترکہ انسدادِ دہشت گردی مشق ‘شیک ہینڈز-II’ کا تربیلا میں آغاز

پاکستان اور سری لنکا کے مابین انسداد دہشت گردی کی مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز…

2 گھنٹے ago

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کی نئی تجویز پر سیکیورٹی ٹیم کے ساتھ اہم مشاورت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنے اعلیٰ سیکیورٹی مشیروں کے ساتھ ہنگامی…

3 گھنٹے ago