فرانس نے سن 2050 تک ملک کو کوئلے، گیس اور تیل جیسے مضرِ صحت ایندھن سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے ایک جامع لائحہ عمل جاری کر دیا ہے۔ کولمبیا کے شہر سانتا مارٹا میں ہونے والی عالمی موسمیاتی کانفرنس میں پیش کیے گئے اس 14 صفحات پر مشتمل روڈ میپ کا مقصد موجودہ توانائی پالیسیوں کو یکجا کر کے ایک واضح ہدف کا تعین کرنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یورپ کی دوسری بڑی معیشت کی جانب سے پیش کیا گیا یہ منصوبہ اپنی نوعیت کا سب سے تفصیلی لائحہ عمل ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سن 2023 میں فرانس کی کل توانائی کی کھپت میں فوسل فیولز کا حصہ 60 فیصد سے کم رہا، جبکہ سن 2011 میں یہ شرح 65 فیصد تھی۔ حکومتی منصوبے کے تحت اس شرح کو سن 2030 تک 40 فیصد اور سن 2035 تک 30 فیصد تک لایا جائے گا تاکہ سن 2050 تک کاربن نیوٹرل ہونے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
منصوبے کے اہم نکات میں سن 2027 تک کوئلے سے چلنے والے آخری دو پاور پلانٹس کی بندش شامل ہے۔ نقل و حمل کے شعبے کو بڑے پیمانے پر بجلی پر منتقل کر کے سن 2045 تک تیل کے استعمال سے نجات حاصل کی جائے گی۔ اس ضمن میں فرانس کا ہدف ہے کہ سن 2030 تک فروخت ہونے والی ہر تین میں سے دو نئی کاریں الیکٹرک ہوں، جبکہ مقامی مینوفیکچررز سن 2027 تک چار لاکھ اور سن 2030 تک دس لاکھ الیکٹرک گاڑیاں تیار کریں گے۔
حرارتی نظام کے حوالے سے فرانس نے رواں سال کے آخر تک نئی عمارتوں میں گیس بوائلرز کی تنصیب پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومت سن 2030 تک ہر سال دس لاکھ ہیٹ پمپس نصب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ رہائشی اور غیر رہائشی عمارتوں میں تیل سے چلنے والے بوائلرز کا استعمال بالترتیب 60 اور 85 فیصد تک کم کیا جا سکے۔
توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے فرانس اپنے ایٹمی ری ایکٹرز کی عمر بڑھانے اور نئی نسل کے ای پی آر ٹو ری ایکٹرز تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ ہوا اور شمسی توانائی کے منصوبوں کو بھی وسعت دی جائے گی، جس کے تحت سن 2035 تک شمسی توانائی کی صلاحیت کو تین گنا بڑھایا جائے گا۔
موسمیاتی تبدیلیوں پر کام کرنے والی تنظیموں نے فرانس کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے تاہم اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ کلائمیٹ ایکشن نیٹ ورک کی پروگرام ڈائریکٹر این برنگالٹ نے کہا کہ فرانس نے فوسل فیولز کے خاتمے کے لیے تاریخیں طے کر کے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے، لیکن اخراج میں کمی کی رفتار حکومتی اہداف سے تین گنا سست ہے۔ گرین پیس فرانس کی لوریل لیموسن نے بھی اس منصوبے کو موسمیاتی ایمرجنسی کے تناظر میں پہلا قدم قرار دیتے ہوئے اسے ناکافی قرار دیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…