اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے ارکان کو یونان ڈیپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ان رضاکاروں کی گرفتاری کے بعد سامنے آئی ہے جنہیں بین الاقوامی پانیوں میں روکا گیا تھا۔
ابتدائی طور پر اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ تقریباً 175 زیر حراست افراد کو اسرائیل منتقل کیا جائے گا، تاہم یونانی حکومت کے ساتھ معاملات طے پانے کے بعد اب انہیں براہ راست یونان بھیجا جا رہا ہے۔ اس اقدام نے سفارتی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹیلا کو روکے جانے اور اس میں سوار افراد کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنا ایک غیر ذمہ دارانہ عمل ہے جس پر عالمی برادری کو فوری توجہ دینی چاہیے۔
اسحاق ڈار نے مطالبہ کیا کہ فلوٹیلا میں موجود تمام رضاکاروں اور امدادی کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہوں نے بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ وہ ان اقدامات کا نوٹس لیں جو عالمی قانونی اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل اسرائیلی بحریہ کی تیز رفتار کشتیوں نے سمندر میں فلوٹیلا کے جہازوں کا گھیراؤ کر کے انہیں روک لیا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ یہ واقعہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اعلان کیا…
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی یوم مزدور کے موقع…
برطانیہ میں ہاؤسنگ مارکیٹ نے تمام تر معاشی خدشات کو مسترد کرتے ہوئے اپریل کے…
سندھ رینجرز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی…
دی ڈیول وئیرز پراڈا ٹو سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کر دی گئی…
کوئٹہ (ویب ڈیسک) حکومت بلوچستان نے صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں طبی…