بھارتی ریاستی انتخابات: نتائج نے ہندو مسلم سیاسی خلیج کو مزید گہرا کر دیا

نئی دہلی میں ہونے والے چار ریاستوں کے حالیہ انتخابات کے نتائج نے بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی تقسیم کو واضح کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کا رجحان کانگریس کی جانب جبکہ ہندو ووٹرز کی بڑی تعداد وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ کھڑی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ رجحان سیکولر کہلانے والے ملک میں گہری نظریاتی تقسیم اور مذہبی پولرائزیشن کی عکاسی کرتا ہے۔ سن 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے نریندر مودی نے ہندو مفادات پر مبنی ہندوتوا نظریے کو فروغ دیا ہے۔ بھارت کی ایک ارب 42 کروڑ کی آبادی میں ہندوؤں کا تناسب 80 فیصد جبکہ مسلمانوں کا 14 فیصد ہے، جس کے باعث یہ تقسیم بی جے پی کے سیاسی تسلط کو مزید مستحکم کر رہی ہے۔

آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے رفیقِ کار رشید کدوائی کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے عروج کے نتیجے میں مسلمانوں کا رجحان کانگریس جیسی سیکولر جماعتوں کی طرف بڑھ رہا ہے، جسے وہ ریورس پولرائزیشن قرار دیتے ہیں۔ مسلم رہنماؤں کا ماننا ہے کہ ووٹرز اب چھوٹی علاقائی جماعتوں کے بجائے کانگریس کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ بی جے پی کا مقابلہ کیا جا سکے۔

آسام میں کانگریس کے کامیاب ہونے والے 19 قانون سازوں میں سے 18 کا تعلق مسلم برادری سے ہے، جبکہ اسی ریاست میں آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کی نشستیں 16 سے گھٹ کر صرف دو رہ گئی ہیں۔ مغربی بنگال میں بھی کانگریس کے منتخب ہونے والے دونوں قانون ساز مسلمان ہیں۔ دوسری جانب بی جے پی نے ان دونوں ریاستوں میں کسی بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ بنگال میں بی جے پی رہنما سویندو ادھیکاری نے اس کامیابی کو ہندوتوا کی جیت قرار دیا ہے۔

سیاسی کالم نگار رادھیکا رماسیشن کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں مسلمان کانگریس کے گرد متحد ہوتے رہے تو ہندو ووٹرز بھی بی جے پی کے ساتھ مزید مضبوطی سے جڑ سکتے ہیں۔ آسام میں اے آئی یو ڈی ایف کے سربراہ بدرالدین اجمل کے مطابق بی جے پی کے دور میں پیدا ہونے والا عدم تحفظ مسلمانوں کو کانگریس کی طرف دھکیل رہا ہے۔

کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ ان کی جماعت مسلم لیگ کا روپ دھار رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس مذہب سے بالاتر ہو کر مظلوموں کے حقوق کے لیے کھڑی ہے۔ تاہم ناقدین کا ماننا ہے کہ مودی کے دور میں انتخابی مہمات کے دوران فرقہ وارانہ بیانیہ ماضی کی نسبت کہیں زیادہ نمایاں ہو چکا ہے، جس سے بھارت کے سیکولر تشخص پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

جنگ بندی کے بعد بیروت پر پہلا حملہ، اسرائیل کا حزب اللہ کمانڈر کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ بیروت کے جنوبی مضافات میں کیے گئے فضائی…

18 منٹس ago

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ گلگت بلتستان، ترقیاتی منصوبوں اور دانش اسکولوں کا افتتاح

وزیر اعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران مختلف ترقیاتی منصوبوں کا…

23 منٹس ago

وائرس زدہ کروز شپ کے مسافروں کی تلاش، دنیا بھر میں ہنگامی اقدامات

دنیا بھر کے ممالک میں ہینٹا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات…

29 منٹس ago

خیبر پختونخوا کی نوجوان سیلر حجاب اجمل نے نیشنل گیمز میں تاریخ رقم کر دی

کراچی میں دسمبر 2025 میں منعقد ہونے والے 35 ویں نیشنل گیمز میں خیبر پختونخوا…

36 منٹس ago

ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے قوم کو معرکہ حق کی پہلی سالگرہ پر مبارکباد

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاک بحریہ…

1 گھنٹہ ago

پاکستان نے معرکہ حق میں اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو عبرتناک شکست دی: ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ…

2 گھنٹے ago