برطانیہ میں مقامی انتخابات: کیئر سٹارمر کی لیبر پارٹی کو بڑی شکست کا خدشہ

برطانیہ میں مقامی اور علاقائی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے جس کے نتائج وزیر اعظم کیئر سٹارمر کی لیبر پارٹی کے لیے بڑا سیاسی دھچکا ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان انتخابات کے بعد سٹارمر کی حکومتی صلاحیتوں پر سوالات مزید گہرے ہونے کا خدشہ ہے۔

انگلینڈ کی پانچ ہزار کونسل نشستوں سمیت سکاٹ لینڈ اور ویلز کی پارلیمانوں کے لیے ہونے والے ان انتخابات کو روایتی دو جماعتی نظام کے خاتمے کی شروعات قرار دیا جا رہا ہے۔ ووٹرز کی جانب سے لیبر اور کنزرویٹو پارٹی کے بجائے پاپولسٹ اور قوم پرست جماعتوں کی حمایت کے رجحانات سامنے آ رہے ہیں۔

سروے رپورٹس کے مطابق نائجل فراج کی جماعت ریفارم یو کے انگلینڈ کی کونسلوں میں اپنا کنٹرول بڑھانے کے ساتھ ساتھ سکاٹ لینڈ اور ویلز میں بھی اہم اپوزیشن کے طور پر ابھر سکتی ہے۔ دوسری جانب گرین پارٹی کی جانب سے بھی لندن اور دیگر بڑے مراکز میں لیبر پارٹی کے گڑھ کو چیلنج کرنے کی توقع ہے۔

توقع ہے کہ لیبر پارٹی کو کونسل کی متعدد نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے، جس کے بعد وزیر اعظم سٹارمر پر مستعفی ہونے یا اپنے اقتدار کے خاتمے کا ٹائم ٹیبل دینے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو گا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے برطانیہ کے قرض لینے کی لاگت میں اضافہ بھی اسی خدشے کی عکاسی کرتا ہے کہ سٹارمر کی جگہ کوئی بائیں بازو کا رہنما آ سکتا ہے جو اخراجات میں اضافے کا حامی ہو۔

تریسٹھ سالہ وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے ان تمام مشکلات کے باوجود ڈٹے رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے یوکرین اور ایران میں جاری تنازعات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مہنگائی کے بحران سے نمٹنے کا وعدہ کیا ہے۔ سٹارمر کا کہنا ہے کہ یہ وقت قوم کو متحد کرنے کا ہے نہ کہ تقسیم کی سیاست کا۔ انہوں نے ایک فعال اور مداخلت پسند حکومت تشکیل دینے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

سٹارمر کی مشکلات میں پیٹر مینڈلسن کا تقرر بھی ایک بڑی وجہ بنا۔ مینڈلسن کے جیفری ایپسٹین اور روس و چین کے ساتھ مبینہ تعلقات کے انکشافات کے بعد برطانوی سیاست میں ہنگامہ برپا ہوا تھا۔ ستمبر میں سٹارمر نے مینڈلسن کو برطرف کر دیا تھا جبکہ فروری میں پولیس نے ان کے خلاف بدعنوانی کے شبہ میں کارروائی بھی کی تھی۔

لیبر پارٹی کے ارکان اور کارکنوں کے مطابق انتخابی مہم کے دوران انہیں ووٹرز کی شدید برہمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پارٹی کے اندر سے بھی سٹارمر کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں تاہم متبادل قیادت کی عدم موجودگی کے باعث انہیں فی الحال سیاسی پناہ ملی ہوئی ہے۔

سابق نائب لیبر لیڈر ٹام واٹسن نے پارٹی ارکان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک چلانے جیسی حماقت نہ کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی کوششیں ناکام ہوں گی اور ووٹرز اس صورتحال کو پارٹی کی اپنی ذات میں الجھنے سے تعبیر کریں گے جبکہ ملک کو اس وقت حقیقی مسائل درپیش ہیں۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

آپریشن بنیان المرصوص: پاک فضائیہ کا 4 رافیل سمیت 8 بھارتی طیارے مار گرانے کا دعویٰ

پاکستان نے معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر آپریشن بنیان المرصوص کی تفصیلات…

1 گھنٹہ ago

پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین پہلے ٹیسٹ میچ کا آغاز کل سے ہوگا

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا آغاز جمعہ…

1 گھنٹہ ago

جنگ بندی کے بعد بیروت پر پہلا حملہ، اسرائیل کا حزب اللہ کمانڈر کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ بیروت کے جنوبی مضافات میں کیے گئے فضائی…

2 گھنٹے ago

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ گلگت بلتستان، ترقیاتی منصوبوں اور دانش اسکولوں کا افتتاح

وزیر اعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران مختلف ترقیاتی منصوبوں کا…

2 گھنٹے ago

وائرس زدہ کروز شپ کے مسافروں کی تلاش، دنیا بھر میں ہنگامی اقدامات

دنیا بھر کے ممالک میں ہینٹا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات…

2 گھنٹے ago

خیبر پختونخوا کی نوجوان سیلر حجاب اجمل نے نیشنل گیمز میں تاریخ رقم کر دی

کراچی میں دسمبر 2025 میں منعقد ہونے والے 35 ویں نیشنل گیمز میں خیبر پختونخوا…

2 گھنٹے ago