تہران اور واشنگٹن کے مابین کشیدگی میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے بعد آبنائے ہرمز میں فوجی تصادم کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ ان کی بحری افواج نے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ایرانی حملوں کے جواب میں دفاعی کارروائی کی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق جب تین امریکی ڈسٹرائر جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزر رہے تھے تو ایرانی افواج نے بیک وقت متعدد میزائلوں، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے حملہ کیا۔ سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ان کے کسی بھی اثاثے کو نقصان نہیں پہنچا اور امریکی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا جہاں سے میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے تھے۔
امریکی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور انٹیلی جنس و نگرانی کے اہم مقامات کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان نے سرکاری میڈیا کو جاری بیان میں کہا کہ امریکی فورسز نے جاسکے کے قریب سے گزرنے والے ایک ایرانی آئل ٹینکر اور اماراتی بندرگاہ فجیرہ کے قریب ایک اور جہاز کو نشانہ بنایا۔
ایرانی ترجمان کے مطابق امریکہ نے خطے کے کچھ ممالک کے تعاون سے بندر عباس، خمیر، سریک اور قشم جزیرے کے ساحلی علاقوں میں شہری آبادی کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔ ایرانی مسلح افواج نے اس جارحیت کے جواب میں امریکی بحری جہازوں پر جوابی حملہ کیا جس سے انہیں بھاری نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
فریقین کی جانب سے متضاد دعووں کے بعد خطے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور عالمی برادری کی جانب سے اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک تازہ ترین صورتحال ہے اور اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…