ڈنمارک میں قائم الائنس آف ڈیموکریسیز فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر امریکہ کے بارے میں تاثر مسلسل دوسرے سال بھی خراب ہوا ہے اور اب یہ روس سے بھی زیادہ منفی ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی رائے عامہ میں امریکہ کا درجہ گرنے کی بنیادی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں ہیں جن کی وجہ سے نیٹو اتحاد شدید دباؤ کا شکار ہے۔
سروے میں شرکاء سے جب یہ پوچھا گیا کہ دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ کون سا ملک ہے تو روس اور اسرائیل کے بعد امریکہ کا نام سب سے زیادہ لیا گیا۔ الائنس کے بانی اور نیٹو کے سابق سیکریٹری جنرل اینڈرس فوگ راسموسن نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر امریکہ کے بارے میں تاثر میں تیزی سے گراوٹ افسوسناک ہے مگر یہ حیران کن نہیں ہے۔
راسموسن کے مطابق گزشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران امریکی خارجہ پالیسی نے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات پر سوالات اٹھائے ہیں، بڑے پیمانے پر ٹیرف عائد کیے گئے اور نیٹو کے اتحادیوں کی سرزمین پر قبضے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ ان اقدامات نے عالمی سطح پر امریکی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ڈیموکریسی پرسیپشن انڈیکس کے مطابق امریکہ کے بارے میں خالص تاثر منفی سولہ فیصد تک گر چکا ہے، جبکہ دو سال قبل یہ مثبت بائیس فیصد تھا۔ اس درجہ بندی میں روس منفی گیارہ فیصد کے ساتھ امریکہ سے بہتر پوزیشن پر ہے جبکہ چین کا تاثر مثبت سات فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سروے کرنے والی فرم نیرا ڈیٹا نے یہ اعداد و شمار انیس مارچ سے اکیس اپریل کے درمیان اکٹھے کیے جس میں اٹھانوے ممالک کے چورانوے ہزار سے زائد افراد کی رائے شامل کی گئی تھی۔ یہ رپورٹ بارہ مئی کو کوپن ہیگن میں ہونے والے ڈیموکریسی سمٹ سے قبل جاری کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ جیلوں میں…
آئرلینڈ کے نامور فٹبالرز، معروف سماجی شخصیات اور فنکاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ جمہوریہ…
انڈونیشیا کے مشرقی جزیرے ہلماہیرا میں واقع ماؤنٹ ڈوکونو آتش فشاں کے پھٹنے سے دو…
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ…
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سنگاپور کے قریب امریکی…
یورپی یونین کے موسمیاتی ادارے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس نے انتباہ جاری کیا ہے کہ…