غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے فلوٹیلا میں سوار دو غیر ملکی کارکنوں کو اسرائیلی حراست سے رہا کر دیا گیا ہے اور توقع ہے کہ انہیں جلد ملک بدر کر دیا جائے گا۔ ان کارکنوں کے وکلاء نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کے روز انہیں سیکیورٹی حراست سے رہا کر کے امیگریشن حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ہسپانوی شہری سیف ابو کشک اور برازیلی نژاد تھیاگو ایویلا کو 29 اپریل کو اسرائیلی فورسز نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے روانہ ہونے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے۔ اس فلوٹیلا کا آغاز 12 اپریل کو اسپین سے ہوا تھا جس کا مقصد محصور علاقے تک امدادی سامان پہنچانا تھا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے دونوں کارکنوں پر دہشت گرد تنظیموں سے تعلق اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے تھے، جنہیں دونوں افراد نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ برازیل اور اسپین کی حکومتیں پہلے ہی ان کی حراست کو غیر قانونی قرار دے چکی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم عدالہ، جو ان دونوں کارکنوں کی قانونی معاونت کر رہی ہے، کا کہنا ہے کہ ان کی رہائی کے بعد اب انہیں امیگریشن حکام کی تحویل میں رکھا گیا ہے تاکہ ان کی وطن واپسی کا عمل مکمل کیا جا سکے۔ تنظیم کے مطابق وہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ ان کی جلد از جلد ملک بدری کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسرائیلی حکام نے ان افراد کو دشمن کی مدد اور دہشت گرد گروپ سے رابطے جیسے سنگین الزامات کے تحت حراست میں رکھا تھا۔ واضح رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور انسانی امداد کی ترسیل میں تاخیر پر عالمی ادارے گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اسرائیلی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ یورپ نیٹو اتحاد کو فعال رکھنے کے…
گزشتہ ماہ غزہ جانے والے امدادی قافلے کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے روکے جانے…
چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اتوار کی صبح…
برطانیہ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے اپنے جنگی…
پنجاب بھر کے سرکاری اسکولوں میں موسم گرما کی تعطیلات کا آغاز پچیس مئی سے…
پسنی کے ساحلی علاقے جڈی سے ایک مردہ سبز کچھوا برآمد ہوا ہے، جو مئی…