پسنی کے ساحلی علاقے جڈی سے ایک مردہ سبز کچھوا برآمد ہوا ہے، جو مئی کے مہینے میں اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ مکران کے ساحل پر کچھووں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافے نے ماحولیاتی ماہرین میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ماہرینِ ماحولیات کے مطابق رواں برس گوادر اور پسنی کے مختلف ساحلی مقامات سے اب تک درجنوں مردہ کچھوے مل چکے ہیں۔ ساحلی پٹی پر کچھووں کی تسلسل کے ساتھ ہونے والی ہلاکتیں ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ بن کر ابھر رہی ہیں، جہاں تقریباً ہر ماہ ساحل کے مختلف حصوں سے مردہ کچھوے دریافت ہو رہے ہیں۔
بحری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھوے سمندری حیات کے توازن کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ مکران کا ساحلی خطہ ماضی میں کچھووں کے لیے ایک محفوظ مسکن اور افزائشِ نسل کا اہم مرکز سمجھا جاتا تھا، تاہم حالیہ برسوں میں ان کی اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر چکی ہے۔
ماہرین نے قومی اور بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان ہلاکتوں کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا جائے۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ یورپ نیٹو اتحاد کو فعال رکھنے کے…
گزشتہ ماہ غزہ جانے والے امدادی قافلے کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے روکے جانے…
چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اتوار کی صبح…
برطانیہ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے اپنے جنگی…
پنجاب بھر کے سرکاری اسکولوں میں موسم گرما کی تعطیلات کا آغاز پچیس مئی سے…
غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے فلوٹیلا میں سوار دو غیر ملکی کارکنوں…