قومی کرکٹ ٹیم کے سابق اوپنر احمد شہزاد قانونی مشکلات میں گھر گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق احمد شہزاد کی جانب سے قومی ٹیم کے سابق کپتان پر سنگین الزامات عائد کرنے کے بعد سائبر کرائم قوانین کے تحت تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بطور تجزیہ کار کام کرنے والے احمد شہزاد کو اس معاملے پر پوچھ گچھ کے لیے لاہور طلب کیا گیا ہے۔ یہ تحقیقات ان بیانات کے سلسلے میں کی جا رہی ہیں جن میں سابق اوپنر نے ٹیم کے انتخاب اور کھلاڑیوں کو ڈراپ کیے جانے کے عمل پر سوالات اٹھائے تھے۔
سابق کپتان نے اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کو اپنی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کرکٹ کی کارکردگی پر تنقید تو قابل قبول ہے لیکن بغیر ثبوت الزامات کی تشہیر عوامی رائے کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔
مذکورہ کیس کو پاکستان کے سائبر کرائم فریم ورک کے تحت دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اگر تحقیقات کے دوران احمد شہزاد کے جوابات غیر تسلی بخش پائے گئے تو ان کے خلاف باضابطہ ایف آئی آر درج کی جا سکتی ہے جس سے قانونی پیچیدگیاں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
اس پیش رفت نے سابق کرکٹرز کے بطور تجزیہ کار میڈیا پر دیے جانے والے بیانات کی اخلاقی اور قانونی حدود پر بحث کو جنم دیا ہے۔ احمد شہزاد کی جانب سے اس تحقیقات پر تاحال کوئی تفصیلی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے منشیات فروشی اور غیر قانونی اسلحہ کی فراہمی…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تین روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے ہیں جہاں ان…
اسلام آباد میں ایوان صدر کے اندر منعقدہ ایک پروقار تقریب میں صدر مملکت آصف…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے مقصد…
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان فضائیہ نے معرکہ حق…
کراچی میں چین کے تجارتی اور صنعتی وفد نے فیڈریشن ہاؤس کا دورہ کیا ہے…