گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کیمپس میں ہراسانی کے کسی بھی واقعے کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
چند روز قبل موصول ہونے والی ایک شکایت پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ظفر اقبال کی ہدایات کے تحت فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔ معاملے کی انکوائری ہنگامی بنیادوں پر مکمل کی گئی اور ملوث ملازم کو صرف تین روز کے اندر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طلبہ کو محفوظ اور پرامن تعلیمی ماحول فراہم کرنا اولین ترجیح ہے اور والدین کو کسی قسم کی تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ موجودہ انتظامیہ طلبہ کے تحفظ، وقار اور عزت نفس کو یقینی بنانے کے لیے ہراسانی کے خلاف مکمل طور پر متحرک ہے۔
ترجمان کے مطابق ہراسانی سے متعلق موصول ہونے والی ہر شکایت کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور کوئی بھی فرد قانون اور یونیورسٹی کے ضوابط سے بالاتر نہیں ہے۔ انتظامیہ نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہراسانی میں ملوث کسی بھی شخص کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی اور فوری تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ عناصر بلاجواز گومل یونیورسٹی کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انتظامیہ نے مزید کہا کہ تعلیمی ادارے معاشرے کی امانت ہیں، اس لیے ہر شخص کو ادارے کے وقار اور طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
بحرین کی وزارت داخلہ نے دعوی کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے ایران کی پاسداران…
راولپنڈی میں عسکری قیادت نے معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر قوم اور…
وزیراعظم شہباز شریف نے معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر کہا ہے کہ…
چیف آف آرمی اسٹاف اینڈ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف…
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ یورپ نیٹو اتحاد کو فعال رکھنے کے…
گزشتہ ماہ غزہ جانے والے امدادی قافلے کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے روکے جانے…