گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کیمپس میں ہراسانی کے کسی بھی واقعے کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
چند روز قبل موصول ہونے والی ایک شکایت پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ظفر اقبال کی ہدایات کے تحت فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔ معاملے کی انکوائری ہنگامی بنیادوں پر مکمل کی گئی اور ملوث ملازم کو صرف تین روز کے اندر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طلبہ کو محفوظ اور پرامن تعلیمی ماحول فراہم کرنا اولین ترجیح ہے اور والدین کو کسی قسم کی تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ موجودہ انتظامیہ طلبہ کے تحفظ، وقار اور عزت نفس کو یقینی بنانے کے لیے ہراسانی کے خلاف مکمل طور پر متحرک ہے۔
ترجمان کے مطابق ہراسانی سے متعلق موصول ہونے والی ہر شکایت کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور کوئی بھی فرد قانون اور یونیورسٹی کے ضوابط سے بالاتر نہیں ہے۔ انتظامیہ نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہراسانی میں ملوث کسی بھی شخص کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی اور فوری تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ عناصر بلاجواز گومل یونیورسٹی کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انتظامیہ نے مزید کہا کہ تعلیمی ادارے معاشرے کی امانت ہیں، اس لیے ہر شخص کو ادارے کے وقار اور طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…