مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: ساڑھے تین ہزار امریکی فوجی تعینات

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکی فوج کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت جاری ہے۔ حکام کی جانب سے ہفتے کے روز اعلان کیا گیا کہ ساڑھے تین ہزار سے زائد امریکی فوجی مشرق وسطیٰ پہنچ چکے ہیں، جن میں یو ایس ایس ٹریپولی پر سوار ڈھائی ہزار میرینز بھی شامل ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ یو ایس ایس ٹریپولی، جو کہ ٹریپولی ایمفیبیئس ریڈی گروپ اور 31 ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کا فلیگ شپ ہے، اپنی ذمہ داری کے علاقے میں پہنچ چکا ہے۔ یہ جدید ترین ایمفیبیئس جنگی جہاز ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں اور اوسپرے طیاروں کی بڑی تعداد کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سینٹرل کمانڈ کے مطابق آپریشن ایپک فیوری کا آغاز 28 فروری کو ہوا تھا، جس کے بعد سے اب تک 11 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ ٹریپولی کے علاوہ یو ایس ایس باکسر اور دیگر دو بحری جہازوں کو بھی سان ڈیاگو سے خطے کی جانب روانہ ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ زمینی فوج کے بغیر بھی اپنے اہداف حاصل کر سکتا ہے، تاہم صدر ٹرمپ کو ہر قسم کے ہنگامی حالات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج کو اس لیے تعینات کیا گیا ہے تاکہ صدر کو کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ آپشنز میسر ہوں۔

خطے میں امریکی فوج کی یہ آمد ایران کی جانب سے سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئر بیس پر چھ بیلسٹک میزائلوں اور 29 ڈرونز کے حملے کے بعد ہوئی ہے، جس میں 10 امریکی فوجی زخمی ہوئے تھے۔ ان میں سے دو اہلکاروں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

جنگ کی شدت کے باعث عالمی فضائی سفر اور تیل کی برآمدات بری طرح متاثر ہوئی ہیں، جبکہ ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول نے معاشی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے بھی جنگ میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا ہے اور ایک میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جسے اسرائیل نے ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے باب المندب کے قریب تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے سے عالمی سمندری سیکیورٹی اور توانائی کی منڈیوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 6 اپریل تک کی مہلت دی ہے۔ تاہم تہران نے واشنگٹن کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی سیز فائر فارمولے کو مسترد کرتے ہوئے جوابی تجاویز پیش کی ہیں جن میں اپنے خود مختار حقوق کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

منشیات فروش خاتون ‘پنکی’ تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے منشیات فروشی اور غیر قانونی اسلحہ کی فراہمی…

45 منٹس ago

تجارتی جنگ اور ایران کشیدگی کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیجنگ پہنچ گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تین روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے ہیں جہاں ان…

1 گھنٹہ ago

ایوانِ صدر میں پروقار تقریب: صدر آصف علی زرداری نے نمایاں شخصیات کو سول اعزازات سے نوازا

اسلام آباد میں ایوان صدر کے اندر منعقدہ ایک پروقار تقریب میں صدر مملکت آصف…

2 گھنٹے ago

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اہم مذاکرات کے لیے بیجنگ پہنچ گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے مقصد…

2 گھنٹے ago

معرکہ حق میں پاکستان کو عسکری اور سفارتی محاذوں پر تاریخی کامیابی حاصل ہوئی، عطا اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان فضائیہ نے معرکہ حق…

3 گھنٹے ago

چینی تجارتی وفد کا دورہ ایف پی سی سی آئی: دوطرفہ اقتصادی تعلقات اور مشترکہ سرمایہ کاری پر اتفاق

کراچی میں چین کے تجارتی اور صنعتی وفد نے فیڈریشن ہاؤس کا دورہ کیا ہے…

3 گھنٹے ago