تل ابیب اور اسرائیل کے دیگر شہروں میں مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خلاف ہونے والے غیر قانونی مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے واقعات پیش آئے ہیں۔ پولیس نے شہر میں کارروائی کرتے ہوئے 13 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
تل ابیب میں موجود خبر رساں ادارے کے نمائندوں کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں کئی افراد زمین پر گر گئے۔ ایک ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اہلکار ایک مظاہرین کا گلا دبوچ کر اسے حراست میں لے رہے ہیں۔
اسی طرح کے مناظر شمالی شہر حیفہ میں بھی دیکھے گئے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظاہرین کو زبردستی ہٹایا۔ اگرچہ ان مظاہروں میں شرکاء کی تعداد گزشتہ برس غزہ جنگ کے خلاف نکلنے والے ہزاروں افراد کے مقابلے میں کم ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔
گزشتہ روز ہونے والے ان مظاہروں میں سابق پارلیمنٹرینز اور بائیں بازو کی نمایاں تنظیموں نے بھی شرکت کی۔ ان تنظیموں میں سٹینڈنگ ٹوگیدر، پیس ناؤ اور ویمن ویج پیس شامل ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خلیجی ممالک میں واقع ایلومینیم…
اسلام آباد میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر اہم سفارتی سرگرمیاں جاری…
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہو گئی ہے اور اتوار کے…
تل ابیب اور اسرائیل کے دیگر شہروں میں ہفتے کے روز جنگ کے خلاف بڑے…
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں تین صحافی جاں بحق ہو گئے…
اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی…