-Advertisement-

کولمبیا: پابلو ایسکوبار کے چھوڑے گئے ‘کوکین ہپوز’ کی آبادی کنٹرول کرنے کے لیے تلفی کا فیصلہ

تازہ ترین

جرمنی کا سوڈان کے لیے مزید 2 کروڑ یورو کی امداد کا اعلان

جرمنی نے سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے متاثرین کی مدد کے لیے مزید 20 ملین یورو کی ہنگامی...
-Advertisement-

کولمبیا کی حکومت نے ملک کے وسطی علاقوں میں آزادانہ گھومنے والے درجنوں دریائی گھوڑوں کو تلف کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدام مقامی دیہاتیوں کو درپیش خطرات اور مقامی جنگلی حیات کے تحفظ کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔ یہ جانور بدنام زمانہ منشیات فروش پابلو اسکوبار کی ملکیت سے فرار ہونے والے دریائی گھوڑوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

وزیر ماحولیات ایرین ویلز کے مطابق، ان جانوروں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے سابقہ طریقے بشمول نس بندی اور انہیں چڑیا گھروں میں منتقل کرنا انتہائی مہنگے اور غیر مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ حکومت نے 80 دریائی گھوڑوں کو تلف کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم اس آپریشن کے آغاز کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ وزیر ماحولیات کا کہنا ہے کہ ایکو سسٹم کو محفوظ بنانے کے لیے یہ سخت اقدام ناگزیر ہے۔

کولمبیا دنیا کا واحد ملک ہے جہاں افریقہ سے باہر دریائی گھوڑے جنگلی حالت میں پائے جاتے ہیں۔ یہ جانور 1980 کی دہائی میں پابلو اسکوبار کی جانب سے اپنے نجی چڑیا گھر کے لیے لائے گئے تھے۔ نیشنل یونیورسٹی آف کولمبیا کی ایک تحقیق کے مطابق 2022 میں ان جانوروں کی تعداد 170 تک پہنچ چکی تھی۔

حکومت نے انہیں ایک حملہ آور نسل قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جانور مقامی آبی حیات جیسے کہ میناٹی، اودبلاؤ اور کچھوؤں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں اور دریاؤں کے پانی کو بھی آلودہ کر رہے ہیں۔ کولمبیا میں ان جانوروں کو بیرون ملک منتقل کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور رہا، لیکن اس پر 35 لاکھ ڈالر کی بھاری لاگت کے باعث اسے عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا۔

دوسری جانب، جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان نے حکومت کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ سینیٹر اینڈریا پیڈیلا نے دریائی گھوڑوں کو تلف کرنے کے اقدام کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جانور حکومتی غفلت کا شکار ہوئے ہیں اور انہیں مارنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

ماضی میں تین مختلف ادوار حکومتوں کے دوران ان جانوروں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن ان کی خطرناک نوعیت اور سرجری کے بھاری اخراجات کے باعث یہ مہمات خاطر خواہ نتائج نہ دے سکیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -