اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ رپورٹ میں انتباہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ کے نتیجے میں لبنان میں 12 لاکھ سے زائد افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
یہ تشویشناک اعداد و شمار اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت، ورلڈ فوڈ پروگرام اور لبنانی وزارت زراعت کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیے میں جاری کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اپریل سے اگست 2026 کے دوران تقریباً 12 لاکھ 40 ہزار افراد یعنی زیر مطالعہ آبادی کا ہر چوتھا شخص خوراک کی عدم تحفظ کے بحرانی درجے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ یہ اعداد و شمار اقوام متحدہ کے تعاون سے کام کرنے والے ادارے انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن کے تجزیے پر مبنی ہیں۔
یہ صورتحال مارچ میں جنگ کے آغاز سے قبل کی نسبت انتہائی سنگین ہے، جب تقریباً 8 لاکھ 74 ہزار افراد یعنی کل آبادی کا 17 فیصد حصہ شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بگاڑ کی بنیادی وجہ جاری تنازع، نقل مکانی اور شدید معاشی دباؤ ہے۔
لبنان میں حکام کے مطابق 17 اپریل سے جاری جنگ بندی کے باوجود چھ ہفتوں پر محیط لڑائی میں ڈھائی ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دس لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر ہوئے ہیں۔
اسرائیلی افواج تاحال جنوبی لبنان میں سرحد کے قریب موجود ہیں اور رہائشیوں کو ان علاقوں میں واپس نہ جانے کی تنبیہ کی گئی ہے، جبکہ جنگ بندی کے باوجود دونوں جانب سے فائرنگ کے واقعات جاری ہیں۔
مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر بروقت اور مستقل انسانی امداد فراہم نہ کی گئی تو خوراک کے عدم تحفظ کا یہ بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…