ماسکو (ویب ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور یوکرین کی جنگ سمیت اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کریملن کے مطابق صدر پیوٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ایران کے جوہری پروگرام سے پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے متعدد تجاویز پیش کیں۔ روسی صدر نے موجودہ صورتحال میں سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا۔
پیوٹن نے یوکرین میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی برسی کے موقع پر اگلے ماہ عارضی جنگ بندی کی تجویز بھی دی۔ کریملن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد تاریخی اہمیت کے حامل دورانیے میں انسانی بنیادوں پر امن کو فروغ دینا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے اور عالمی منڈیوں بالخصوص تیل کی قیمتوں میں استحکام یقینی بنانے کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ یہ واضح کر چکے ہیں کہ امریکہ ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھے گا جب تک تہران واشنگٹن کے تحفظات کے مطابق جوہری معاہدے پر آمادہ نہیں ہو جاتا۔ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے ناکہ بندی کو براہ راست فوجی حملوں سے زیادہ موثر قرار دیا ہے۔
امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ پابندیاں ایران پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں اور ان کا مقصد تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران مسئلے کا حل چاہتا ہے تاہم جب تک تسلی بخش معاہدہ نہیں ہوتا ناکہ بندی برقرار رہے گی۔ انہوں نے اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ تہران کو کسی صورت جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے بدھ کے روز شرح سود کو برقرار رکھنے کا…
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں قائم پاکستانی سفارت خانوں نے تکنیکی خرابیوں کے…
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کے ناک…
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس اور یوٹیوب پر 29 اپریل 2026 سے ایک ویڈیو تیزی…
فرانسیسی ساحل کے قریب بحیرہ روم کی گہرائیوں میں سولہویں صدی کے ایک تجارتی جہاز…
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلوں کے بعد ایک اہم پیش رفت سامنے…