پوپ لیو کا ایک سال: عالمی سطح پر توانا آواز اور امریکی صدر سے کشیدگی میں اضافہ

پوپ لیو اپنی مذہبی قیادت کے پہلے برس کے مکمل ہونے پر ایک فعال اور توانا عوامی کردار کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ کیتھولک چرچ کے سربراہ کے طور پر ان کا پہلا سال عالمی امور پر ان کے سخت موقف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سے خبروں میں رہا ہے۔

پوپ لیو، جو 8 مئی 2025 کو ہونے والے خفیہ اجلاس کے بعد 1.4 ارب افراد پر مشتمل کیتھولک چرچ کے سربراہ منتخب ہوئے تھے، نے حالیہ افریقی دورے کے دوران جنگ اور آمریت کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی ہے۔ ان کے اس جارحانہ انداز نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے، جبکہ ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ پر تنقید کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے ان پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔

واشنگٹن کے کارڈینل رابرٹ میک ایلروئے نے پوپ لیو کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عالمی برادری میں امن اور انسانی وقار کے محافظ کے طور پر ایک مضبوط آواز بن کر ابھرے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوپ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر انجیل کی تعلیمات کے مطابق دو ٹوک موقف اپنانے پر یقین رکھتے ہیں۔

پوپ لیو کی جمعرات کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات متوقع ہے۔ یہ گزشتہ ایک سال کے دوران ان کی کسی امریکی کابینہ کے رکن کے ساتھ پہلی بالمشافہ ملاقات ہوگی۔ امریکی سفیر کے مطابق اس ملاقات میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر کھل کر بات چیت کی جائے گی۔

سابق کارڈینل رابرٹ پریوسٹ کے طور پر پہچانے جانے والے پوپ لیو نے اپنے دور کا آغاز ایک خاموش شخصیت کے طور پر کیا تھا، تاہم ستمبر میں امریکی امیگریشن پالیسیوں پر تنقید کے بعد ان کے اور ٹرمپ کے درمیان لفظی جنگ شروع ہوگئی۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوپ کو کمزور قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

پوپ لیو رواں ماہ اپنا پہلا تفصیلی تعلیمی دستاویز جاری کرنے والے ہیں جس میں مصنوعی ذہانت اور عالمی تنازعات جیسے اخلاقی چیلنجز پر بات کی جائے گی۔ جون میں ان کا ایک ہفتے کا دورہ اسپین بھی شیڈول ہے، جبکہ جولائی میں وہ اٹلی کے پانچ مختلف دورے کریں گے۔

ان دوروں کے سلسلے میں 4 جولائی کو ان کا جزیرہ لیمپڈوسا کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا اپنی آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس دورے کا مقصد پسماندہ اور تارکین وطن افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔

ویٹیکن کے امور کے ماہر ڈیوڈ گبسن کا کہنا ہے کہ پوپ لیو کسی ایک رہنما کو نشانہ نہیں بنا رہے بلکہ وہ آفاقی اقدار کی بات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی رہنما پوپ کے الفاظ سے خود کو نشانہ بنا ہوا محسوس کرتا ہے تو یہ اس رہنما کا اپنا مسئلہ ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

ملازمت کے حصول کے لیے مصنوعی ذہانت کی مہارتیں ناگزیر، سیکھنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟

موجودہ دور کی ملازمت مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں مہارت روزگار…

30 منٹس ago

امریکہ کا پشاور میں قائم قونصل خانہ مرحلہ وار بند کرنے کا اعلان

امریکی محکمہ خارجہ نے پشاور میں قائم اپنے قونصلیٹ جنرل کو مرحلہ وار بند کرنے…

36 منٹس ago

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان خلیجی اتحاد میں دراڑیں گہری ہو گئیں

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین طویل عرصے سے قائم اتحاد میں دراڑیں…

42 منٹس ago

پاکستانی فنکاروں کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے میٹ گالا 2026 کے لیے منفرد انداز میں اظہار

نیویارک میں منعقدہ میٹ گالا 2026 کے چرچے اس وقت سوشل میڈیا پر عروج پر…

47 منٹس ago

ایران کا امریکا کے ساتھ جامع معاہدے کے حصول کے لیے آمادگی کا اظہار

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ میں چین کے اعلیٰ سفارت کار وانگ ژی…

2 گھنٹے ago

مولانا ادریس قتل کیس: سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے اہم ملزم کی شناخت

چار سدہ میں مذہبی اسکالر مولانا محمد ادریس پر ہونے والے حملے کی تحقیقات میں…

2 گھنٹے ago