تہران میں جاری جنگ کو ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے، جس کے بعد ایرانی شہریوں کی زندگیوں میں گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ فضائی حملوں اور میزائلوں کے خوف کے سائے میں جینے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ ملک میں سکیورٹی فورسز کی گرفت پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہو چکی ہے۔
ایران میں انٹرنیٹ کی بندش اور مواصلاتی رابطوں پر پابندیوں کے درمیان شہریوں کو غیر ملکی میڈیا سے بات کرنے یا تصاویر باہر بھیجنے پر گرفتاریوں اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے تہران کی رہائشی 29 سالہ گلنار نے بتایا کہ ان کا آن لائن کاروبار گزشتہ دو ماہ سے مکمل بند ہے، جس کے باعث آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں بچا۔ انہوں نے کہا کہ گھر کے تمام افراد کے کام کرنے کے باوجود اب بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے اور تفریحی سرگرمیوں کا تصور ختم ہو چکا ہے۔
جزیرہ قشم کے رہائشی 42 سالہ صادق کا کہنا ہے کہ سیاحت کا شعبہ شدید متاثر ہوا ہے اور ہوٹل و کیفے خالی پڑے ہیں۔ ان کے مطابق ایندھن کے حصول کے لیے بھی گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
تہران کے 40 سالہ رہائشی شایان نے بتایا کہ شہر میں اشیائے خوردونوش دستیاب ہیں اور معمولات زندگی رواں دواں نظر آتے ہیں، تاہم لوگوں میں شدید بے بسی پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر اب ویران محسوس ہوتا ہے کیونکہ بیشتر لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔
ایک 35 سالہ خاتون نے بتایا کہ میزائلوں اور دھماکوں کا شور اب ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت تمام ایرانی شہریوں کی سب سے بڑی تشویش ملک کے تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ہے۔
ترکی منتقل ہونے والی یوگا انسٹرکٹر کاتایون نے بتایا کہ ملک میں مسلسل خوف کی فضا ہے اور لوگوں کے پاس کھانے کے لیے پیسے نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی گزارنا ناممکن ہو چکا ہے۔
تہران کی ایک 46 سالہ ڈینٹسٹ انسیہ کا کہنا ہے کہ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ امید کھو رہی ہیں۔ ان کے مطابق جنگ نے ان کی شخصیت کے ایک حصے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے۔
سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے 38 سالہ آرٹسٹ کاوہ نے بتایا کہ شہر میں جگہ جگہ چیک پوائنٹس قائم کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز گاڑیوں کی تلاشی لے رہی ہیں اور لوگوں کے نجی فونز، تصاویر اور نوٹس تک چیک کیے جا رہے ہیں۔
کاوہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا گیا تو حکومت مخالفین کے لیے حالات مزید سنگین ہو جائیں گے، جس کے پیش نظر وہ ملک چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، کیونکہ ان کی…
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر کے اضلاع میں اربوں روپے کے ترقیاتی…
سام سنگ الیکٹرانکس اور یونین کے درمیان تنخواہوں کے معاملے پر مذاکرات بدھ کے روز…
ارجنٹائن کے علاقے پیٹاگونیا کے گاؤں ایپیوین میں سات سال قبل پھیلنے والی ہنٹا وائرس…
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے…